اپنے ولاگ میں زاہد گشکوری نے بتایاکہ موسیٰ مانیکا نے اپنے نوکر کو گولی ماری لیکن کیاوہ اپنے باپ خاور مانیکا کو بھی قتل کرنا چاہتے تھے؟ملزم نے تقریباً دن 11 بجے پاکپتن کے علاقے پرغنی میں موجود ڈیرے پر نوکر پر گولی چلائی، والد پر بھی شاید بندوق اٹھانا چاہتے تھے، والد نے پولیس کو اطلاع دی کیونکہ ان کو بھی نقصان کا خطرہ تھا۔
صحافی کے مطابق زخمی ملازم کے والد منظور احمد کی درخواست پر تھانہ صدر پاکپتن پولیس نے مقدمہ درج کرلیا جس میں دعویٰ کیاہے کہ ملزم ، ان کے بیٹے کوجان سے مارنا چاہتا تھا۔ موسیٰ آج کل زمینداری اور چھوٹا موٹا کاروبار کررہے تھے، اپنے والد کے ساتھ وقت بتا رہے تھے۔
پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کرلیاگیا ہے ، ہتھیار بھی برآمد کرلیےجن کے ابھی تک لائسنس نہیں ملے۔زاہد گشکوری کے مطابق دیکھنا ہوگا کہ پولیس کیسے ٹریٹ کرتی ہے، اس خاندان اور پولیس سے متعلق ماضی میں بھی خبریں سامنے آچکی ہیں، طاقتو لوگوں کے کیس ماضی میں بھی ہم نے دیکھے ہیں ، بڑے بڑوں کی جان چھوٹ جاتی ہے ، پاکستان کا نظام انصاف سب کے سامنے ہے، اس کیس میں اس سٹیج پر لگتا ہےکہ وہ ملزم کو جان سے نہیں مارنا چاہتے تھے لیکن دیکھنا ہوگا کہ پولیس اس کیس کو کیسے ٹریٹ کرتی ہے۔
فیملی کا موقف ہے کہ وہ کسی کو قتل نہیں کرنا چاہتے تھے، جوان تھے اور جذبات کی وجہ سے یہ افسوسناک واقعہ ہوگیا۔





تبصرے بند ہیں