چاند مسلسل سکڑ رہا ہے اور اس کی سطح پر 10,000 سے زائد نئی دراڑوں کا انکشاف ہوا ہے جس سے مستقبل میں چاند پر بھیجے جانے والے خلائی مشنز کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ گئے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سیاروں کے سائنسی جریدے میں 14 اکتوبر کو شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 400 ملین سال کے دوران چاند کا نصف قطر تقریباً 45 میٹر کم ہوا ہے۔
تحقیق امریکی اسمتھ سونین ادارے کے سائنس دان تھامس آر واٹرز کی سربراہی میں کی گئی جس میں چاند کے گرد گردش کرنے والے خلائی جہاز کے کیمرے سے حاصل کردہ تصاویر کا تجزیہ کیا گیا۔
سائنس دانوں نے 17 سال کے دوران حاصل کی گئی لاکھوں تصاویر کا جائزہ لے کر چاند کی ساخت اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کیا۔
تحقیق کے مطابق چاند کی اندرونی حرارت کم ہونے کے باعث اس کا حجم مسلسل گھٹ رہا ہے اور موجودہ رفتار کے مطابق اس کا نصف قطر ہر 10 لاکھ سال میں 6 سے 11 سینٹی میٹر مزید کم ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ سکڑاؤ کے باعث چاند کی بیرونی سطح پر شکنیں اور دراڑیں پیدا ہوئی ہیں جن سے چھوٹی چٹانی ڈھلوانیں وجود میں آئی ہیں، اس عمل کے نتیجے میں چاند کی سطح پر ہزاروں مقامات پر زلزلے بھی آ سکتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق زمین پر تقریباً 90 فیصد زلزلے زمین کی پرتوں کی سرحدوں کے قریب آتے ہیں جبکہ چاند ایک ہی بڑی پرت پر مشتمل ہے، اس لیے وہاں سکڑاؤ کے باعث پیدا ہونے والی دراڑیں کسی بھی مقام پر حرکت اور زلزلے آنے کا سبب بن سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال مستقبل میں چاند پر انسانی موجودگی اور ناسا کے آرٹیمس مشنز کی منصوبہ بندی کے لیے اہم ہے کیونکہ خلائی مشنز کے دوران چاند پر آنے والے زلزلوں اور سطح کی تبدیلیوں کو مدِنظر رکھنا ضروری ہو گا۔
سائنس دانوں کے مطابق چاند کی ابتداء اربوں سال قبل اس وقت ہوئی تھی جب ایک بڑا فلکیاتی جسم زمین سے ٹکرایا تھا، اس تصادم کے نتیجے میں خلاء میں بکھرنے والا گرم ملبہ جمع ہو کر چاند کی شکل اختیار کر گیا تھا۔






تبصرے بند ہیں