امریکا سمجھتا تھا کہ شام کی طرح ایران میں بھی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا، ایرانی صدر

The US believed that the government in Iran would be overthrown

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا یہ سمجھتا تھا کہ جنگ اور پابندیوں کے ذریعے شام کی طرح ایران میں بھی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا، مگر ایرانی عوام کے حوصلے اور عزم نے دشمن کے تمام ارادے ناکام بنا دیے۔

ایک انٹرویو کے دوران ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ دشمن نے یہ سازش کی تھی کہ صرف اڑتالیس گھنٹے میں ایران میں حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا، لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود ایران آج ایک طاقتور اور باوقار ملک کہلاتا ہے اور ملک کے نئے سپریم لیڈر نے ایران کو متحد اور مضبوط بنایا ہوا ہے۔

صدر پزشکیان نے سوال اٹھایا کہ انہیں امریکا اور اسرائیل کی یہ منطق سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیوں ایرانی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ہر اس علامت کے خلاف ہے جو ایرانی عوام کو آزاد اور تخلیق کار بناتی ہے، اور دشمن نہیں چاہتا کہ کوئی بھی قابل شخص ایران میں قائدانہ کردار ادا کرے۔

انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ ایران کے زیادہ تر شہید کمانڈر اور سائنس دان انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے اور ان کا اپنا ذاتی گھر تک نہ تھا، جو ان کے بے لوث جذبے کی واضح علامت ہے۔

معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی اور سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود قومی اتحاد نے ایران کو ناقابل تسخیر بنایا ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطے بہت مشکل ہیں، مگر ان کی موجودگی ایرانی عوام کے لیے غیرمعمولی طاقت کا سبب ہے۔

READ  گڈز ٹرانسپورٹرز کے بعد آل پاکستان ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کا بھی 8اگست سے ہڑتال کا اعلان

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ سپریم لیڈر نے اہم معاملات پر اتفاق رائے سے متعلق ماہرین کی رائے قبول کر لی تھی اور یہ طے پایا تھا کہ اگر تین چوتھائی ووٹ حق میں آئیں تو معاملے کو قبول کر لیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں