اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ’غزہ ٹریبونل‘ میں شرکت کریں گے

UN special envoy to attend Gaza tribunal, says Jeremy Corbyn

برطانیہ کے سابق لیبر رہنما جیریمی کوربن نے اعلان کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر فرانسسکا البانیز ’’غزہ ٹریبونل‘‘ میں شرکت کریں گی۔ یہ دو روزہ اجلاس برطانیہ کے مبینہ جنگی جرائم میں کردار سے متعلق سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔

کوربن، جو اس وقت ’’یور پارٹی‘‘ کے عارضی نام سے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، نے بتایا کہ ٹریبونل ستمبر کے اوائل میں ہوگا۔

گزشتہ ماہ حکومت نے کوربن کے نجی بل کو مسترد کردیا تھا، جس میں اسرائیل۔غزہ جنگ میں برطانیہ کے کردار پر باضابطہ تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے بجائے کوربن کے قائم کردہ ’’پیس اینڈ جسٹس پراجیکٹ‘‘ نے عوامی نوعیت کے اس دو روزہ اجلاس کا اعلان کیا، جسے ’’غزہ ٹریبونل‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق یہ ٹریبونل ماہرین اور عینی شاہدین کی شہادتوں کے ذریعے برطانیہ کے کردار کا جائزہ لے گا اور اس بات کا تعین کرے گا کہ فلسطینی عوام کے خلاف مبینہ نسل کشی میں حکومت کس حد تک ملوث رہی ہے۔

ایڈنبرا فیسٹیول فرنج میں خطاب کرتے ہوئے کوربن نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز اس ٹریبونل میں قانونی پہلوؤں پر اپنی رائے پیش کریں گی۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس 4 اور 5 ستمبر کو چرچ ہاؤس، ویسٹ منسٹر میں ہوگا، جس میں وکلا، ماہرین اور غزہ و مغربی کنارے سے نمائندے شریک ہوں گے۔ کوربن کے مطابق البانیز اس عمل میں شامل ہونے کے لیے پرجوش ہیں۔

READ  مقبوضہ کشمیر: قابض بھارتی فوج نے جعلی مقابلے میں مزید3 نوجوانوں کو شہیدکر دیا

کوربن نے اس ٹریبونل کا موازنہ عراق جنگ پر ہونے والی چلکوٹ انکوائری سے کیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 22 غیر سرکاری تنظیموں، جن میں ایکشن ایڈ بھی شامل ہے، نے کوربن کے مطالبے کی حمایت کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ اگر حکومت نے بل روک دیا تو وہ ایک آزاد ٹریبونل کے قیام پر غور کریں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں