کالا ہرن کے پروڈیوسر کا ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

Producer of 'Kala Haran' approaches Supreme Court against High Court order

فلم کالا ہرن کے پروڈیوسر امیت جانی نے دہلی ہائیکورٹ کے ٹیزر ہٹانے کے حکم کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ اس فلم کا مواد بالی سپر اسٹار سلمان خان کے شخصی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہیں۔

حال ہی میں دہلی ہائی کورٹ نے عبوری حکم میں فلم کے پروڈیوسرز کو فلم کا ٹیزر اور دیگر تشہیری مواد ہٹانے کو کہا تھا، کیونکہ عدالت کے مطابق اس میں سلمان خان کے شخصی حقوق کی خلاف ورزی بادی النظر میں نظر آتی ہے۔

اب پروڈیوسر امیت جانی نے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔ فلم کی تشہیری مہم نے اس وقت تنازع کھڑا کیا جب یہ الزام سامنے آیا کہ یہ فلم سلمان خان سے متعلق زیرِ التوا کالے ہرن کے شکار کے مقدمے پر مبنی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پروڈیوسر امیت جانی نے دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ نے ٹیزر کو روکتے ہوئے یہ واضح نہیں کیا کہ اس میں ایسا کون سا مخصوص قابل اعتراض مواد موجود ہے جس سے سلمان خان کی شخصیت کو غیر قانونی طور پر استعمال یا تجارتی طور پر پیش کیا گیا۔

اپیل میں کہا گیا کہ یہ مقدمہ آئینی اعتبار سے دور رس اہمیت کا حامل سوال اٹھاتا ہے، کیونکہ سلمان خان کا قانونی طور پر ناقابلِ قبول مؤقف تسلیم کرنے سے شخصی حقوق کو نجی سنسر شپ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

READ  عمران ہاشمی سوائن فلو کا شکار، فلم آوارہ پن 2 نے 200 کروڑ کمالیے

اپیل میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگر کسی فلم ساز کے تخلیقی اظہار کو شخصی حقوق کی آڑ میں دبانے کی اجازت دی گئی تو اس سے آزاد فلم سازی، صحافت اور ایسے واقعات کی فنکارانہ منظرکشی پر منفی اثر پڑے گا جو پہلے ہی عوامی معلومات اور مفاد کا حصہ ہیں۔
کالا ہرن کا ٹیزر 17 جولائی کو جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد تنازع نے جنم لیا۔ 27 جولائی کو دہلی ہائی کورٹ نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے فلم سازوں کو ٹیزر اور اس سے متعلق تشہیری مواد فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا۔ عدالت کے مطابق یہ مواد بادی النظر میں سلمان خان کے شخصی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ان کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

سلمان خان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ فلم کی تشہیر میں ان کی شخصیت کو ان کی اجازت کے بغیر تجارتی طور پر استعمال کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ تقریباً دو منٹ دورانیے کے ٹیزر میں ایان خان نامی ایک فرضی کردار دکھایا گیا ہے، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اسے واضح طور پر انہی کی شخصیت کی عکاسی کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں