پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کوئی تصوراتی بات نہیں بلکہ ایک تلخ اور خطرناک حقیقت بن چکی ہے۔ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، بے وقت بارشیں، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور پانی کی قلت جیسے مسائل اس بات کا ثبوت ہیں کہ ماحولیاتی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہو چکی ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ دہائیوں میں ملک کا درجہ حرارت 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیئرز کا پگھلاؤ مزید تیز ہو جائے گا، پانی کا بحران شدت اختیار کرے گا، اور ہیٹ ویوز مزید جان لیوا ثابت ہوں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق، پاکستان اُن دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں اس کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ "کلاؤڈ برسٹ” جیسے قدرتی سانحات آئندہ بھی پیش آ سکتے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری انتہائی ضروری ہے۔ حال ہی میں گلگت بلتستان میں شدید بارشوں، سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے 4 ارب روپے کے امدادی پیکج کا اعلان کیا، جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ جبکہ زخمیوں کو 5 لاکھ روپے فی کس امداد دینے کا اعلان کیا گیا۔ ساتھ ہی ارلی وارننگ سسٹم میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکم بھی دیا گیا، جس کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ سات سال سے صرف فائلوں میں الجھا ہوا ہے، اور اب اس میں مزید تاخیر ناقابل برداشت ہے۔
2022ء کا تباہ کن سیلاب پاکستان میں ماحولیاتی بحران کی ایک ہولناک مثال ہے، جس میں 1700 سے زائد افراد جاں بحق، 3 کروڑ سے زیادہ متاثر اور معیشت کو تقریباً 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔ عالمی رپورٹس کے مطابق، گزشتہ بیس سالوں کے دوران پاکستان کو موسمیاتی آفات کی وجہ سے 10 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے، جبکہ عالمی کاربن اخراج میں اس کا حصہ صرف 1 فیصد سے بھی کم ہے۔
زراعت، جو ملکی معیشت کا 20 فیصد اور روزگار کا 40 فیصد فراہم کرتی ہے، موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ بے وقت بارشوں اور خشک سالی کے باعث گندم، چاول اور کپاس کی پیداوار میں واضح کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے صحت عامہ کے مسائل میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، ہر سال تقریباً 1.28 لاکھ افراد ایسی بیماریوں کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں جو ماحولیاتی آلودگی سے جڑی ہوئی ہیں۔
حکومت نے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے 2021ء میں نیشنل کلائمیٹ چینج پالیسی متعارف کروائی، تاہم اس پر عملدرآمد کی رفتار تاحال سست ہے۔ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ فوری اور جامع اقدامات کیے جائیں، جن میں شامل ہوں: درختوں کی کٹائی پر سخت پابندی، جنگلات کا تحفظ، شہروں میں اربن فارسٹنگ اور گرین اسپیسز کا فروغ، آبی ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر خصوصاً کالا باغ ڈیم، جو نہ صرف پانی کے بحران کو کم کرے گا بلکہ سستی اور وافر بجلی کی فراہمی اور سیلابوں کے تدارک میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ سب سے اہم قدم مؤثر کاربن اخراج ریگولیشنز کی تشکیل اور ان پر سختی سے عملدرآمد ہے۔





تبصرے بند ہیں