اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کا وہ منصوبہ منظور کر لیا ہے جس کے تحت اسرائیلی فوج غزہ شہر کا مکمل کنٹرول سنبھالے گی۔
یہ منظوری نیتن یاہو کے اس اعلان کے بعد دی گئی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی یقینی بنانے کے لیے پورے غزہ پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے، تاکہ حماس کو وہاں سے ہٹایا جا سکے اور مقامی آبادی کو ’آزاد‘ کیا جا سکے۔
کابینہ اجلاس سے قبل امریکی چینل ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیل غزہ پر مستقل قبضہ نہیں رکھے گا بلکہ ایک ’سیکیورٹی پیرا میٹر‘ قائم کرنے کے بعد یہ علاقہ عرب افواج کے حوالے کر دے گا۔ ان کے بقول، عرب افواج ایسا نظام چلائیں گی جو اسرائیل کے لیے خطرہ نہ ہو اور غزہ کے عوام کو بہتر زندگی فراہم کر سکے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، منصوبے کی منظوری کے بعد وزیرِاعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سیکیورٹی کابینہ نے ’حماس کو شکست دینے کے وزیراعظم کے منصوبے‘ کی توثیق کر دی ہے۔ اس کے تحت اسرائیلی ڈیفنس فورسز غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کی تیاری کر رہی ہیں جبکہ جنگی علاقوں سے باہر شہری آبادی کو انسانی امداد فراہم کی جائے گی۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ جنگ کے اختتام کے لیے کابینہ نے پانچ اصول طے کیے ہیں: حماس کا مکمل غیر مسلح کیا جانا، تمام مغویوں کی رہائی، غزہ کی عسکری صلاحیت کا خاتمہ، غزہ پر اسرائیلی سیکیورٹی کا کنٹرول، اور ایسی متبادل سول انتظامیہ کا قیام جو نہ حماس سے منسلک ہو اور نہ ہی فلسطینی اتھارٹی سے۔






تبصرے بند ہیں