ڈیجیٹل فوٹوگرافی کے عروج نے سنہری دور کی مشہور کمپنی کوڈک کو دیوالیہ ہونے کے دہانے پر لا کھڑا کیا

The rise of digital photography brought Kodak, the famous company of the golden age, to the brink of bankruptcy

سنہرے دور سے ڈیجیٹل عہد تک کا سفر طے کرنے والی فوٹوگرافی کی مشہور کمپنی ایسٹ مین کوڈک 133 سال بعد شدید مالی بحران کا شکار ہو کر بندش کے قریب پہنچ گئی ہے۔

دنیا بھر میں ایک صدی تک فوٹوگرافی کی دنیا پر راج کرنے والی کوڈک نے اپنی حالیہ مالیاتی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ وہ طویل مدت تک اپنے آپریشنز جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ کمپنی کو رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں خسارے کا سامنا رہا، جبکہ فروخت بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہوئی ہے۔

سی این این کے مطابق کوڈک پر تقریباً 500 ملین ڈالر کا قرض واجب الادا ہے، جس کی ادائیگی کے لیے اس کے پاس نہ خاطر خواہ فنڈز ہیں اور نہ ہی نقد رقم دستیاب ہے۔ نقدی بچانے کی کوشش میں کمپنی نے امریکی ریٹائرمنٹ انکم پلان میں اپنی شراکت روکنے کا اعلان کیا، جس کے بعد پری مارکیٹ میں اس کے شیئرز کی قیمت 7 فیصد سے زائد گر گئی۔

1970 کی دہائی میں کوڈک امریکی فلم مارکیٹ کا 90 فیصد اور کیمرہ مارکیٹ کا 85 فیصد حصہ رکھتی تھی، لیکن ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثر نے اس کی مارکیٹ پر گرفت کمزور کر دی۔

2020 میں کمپنی کو عارضی سہارا اس وقت ملا جب امریکی حکومت نے اسے فارماسیوٹیکل مصنوعات تیار کرنے کا منصوبہ سونپا۔ روچیسٹر میں واقع کوڈک کا پلانٹ اب ایف ڈی اے سے منظور شدہ ہے اور ریگولیٹڈ ادویات تیار کر سکتا ہے۔

اگرچہ حالیہ مالی حالات مایوس کن ہیں، کوڈک نے اعلان کیا ہے کہ وہ دواسازی کے شعبے میں اپنی سرگرمیاں وسعت دے گی، اور ابتدائی طور پر لیبارٹریز کے لیے فاسفیٹ بفرڈ سالائن (PBS) اور بعد ازاں آئی وی سالائن سمیت دیگر مصنوعات تیار کرے گی۔

READ  پنجاب ریونیو اتھارٹی کی ٹیکس نادہندگان کیخلاف کارروائیاں، معروف فاسٹ فوڈ اور کیفے چینز کا ریکارڈ ضبط

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں