پاکستان دنیا میں ذیابیطس کی بلند ترین شرح رکھنے والا ملک بن چکا ہے، جسے ماہرین صحت نے ایک خاموش لیکن سنگین بحران قرار دیا ہے جو لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ملک میں ہر 10 ذیابیطس کے مریضوں میں سے ایک کو "ڈایابیٹک فٹ ڈیزیز” لاحق ہوتی ہے، جو اگر بروقت علاج نہ ہو تو خطرناک زخموں یا اعضا کی قطع کا باعث بن سکتی ہے۔ موجودہ اندازوں کے مطابق 34 لاکھ سے زائد پاکستانی ذیابیطس سے جڑی پیچیدگیوں کی وجہ سے سنگین خطرات کا شکار ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ذیابیطس صرف اعضا کے کٹنے کی بڑی وجہ نہیں بلکہ گردوں کی ناکامی، فالج، دل کے دورے، بینائی کے مسائل اور طویل مدتی معذوریوں کا بھی باعث بن رہی ہے۔
طبی ماہرین نے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے بروقت تشخیص، صحت مند طرزِ زندگی اپنانا اور مناسب علاج ناگزیر ہیں۔





تبصرے بند ہیں