انڈونیشیا میں اسکول سے ملنے والا مضر صحت کھانا کھا کر سیکڑوں افراد بیمار ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق انڈونیشیا کے وسطی جاوا کے قصبے میں واقع اسکولوں میں طلبہ کو دوپہر کاکھانا دیا گیا، کھانے میں ہلدی والے چاول، آملیٹ ربن، تلی ہوئی ٹیمپہ، ککڑی اور لیٹش سلاد کے ساتھ ساتھ سیب اور دودھ بھی دیا گیا جسے کھانے کے بعد پیٹ خرابی کی شکایت موصول ہونے لگیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مضر صحت کھانا کھانے سے 360 افراد بیمار ہوگئے۔
انتظامیہ نے بتایا کہ کھانے کے نمونے لے کر لیب ٹیسٹ کیلئے بھجوا دیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے رواں سال جنوری میں اسکولوں میں مفت کھانے کا پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے بعد سے اب تک فوڈ پوائزنگ( پیٹ کی خرابی) کی وجہ سے ہزار لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔






تبصرے بند ہیں