نئی دہلی: بھارت میں ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ کہنے پر ہزاروں مسلمان مقدمات کی زد میں ہیں اور مذہبی اظہار کو بھی جرم بنا دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی لو محمد ﷺ کہنے پر ڈھائی ہزار مسلمانوں کے خلاف کیسز درج کیے جا چکے ہیں اور درجنوں گرفتاریاں بھی ہو چکی ہیں جبکہ مسلمانوں کےگھروں پر بلڈوزر بھی چلائے جا رہے ہیں۔
آئی لو محمد ﷺ کہنے پر مسلمانوں پر مذہبی منافرت کے الزامات لگائے گئے، اور ریاست اتر پردیش سے شروع ہونے والا معاملہ پورے بھارت میں پھیل گیا۔
عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت میں وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی کے زیر انتظام کئی ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، جہاں‘‘آئی لو محمد‘‘لکھنے یا کہنے پر اب تک 2500 سے زیادہ مسلمانوں کے خلاف 22 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور 40 کے قریب مسلمانوں کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔
بھارتی پولیس نے کئی مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوز چلا دیے
یہ مہم شمالی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور سے شروع ہوئی جہاں میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ’’آئی لو محمد ‘‘ کا بورڈ لگایا گیا تھا، جسے بعض ہندو گروہوں نے اعتراض کا نشانہ بنایا۔
20 فیصد مسلم آبادی پر مشتمل کانپور کی پولیس نے مقامی ہندو رہنماؤں کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے درجنوں مسلمانوں پر مذہبی منافرت پھیلانے کے سنگین الزامات لگا کر متعدد افراد کو گرفتار کر لیا اور کئی گھروں پر بلڈوزر چلا دیے۔
کانپور سے شروع ہونیوالا احتجاج کئی ریاستوں پر پھیل گیا
اس واقعے کے بعد ملک بھر میں مسلمانوں نے احتجاج شروع کر دیا، اتر پردیش سے شروع ہونے والا احتجاج کا سلسلہ تلنگانہ، مہاراشٹرا، گجرات، اتر کھنڈ اور مقبوضہ جموں و کشمیر تک پھیل گیا جس پر پولیس نے مزید مسلمانوں کو گرفتار کر لیا۔ دوسری جانب آئی لو محمد ﷺ کے ہورڈنگز اور لکھائی والی ٹی شرٹس کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی پھیل گئیں۔
اتر پردیش کے شہر بریلی میں کانپور میں ہونے والی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر پولیس نے ہلا بولا اور 75 افراد کو گرفتار کر لیا، اور امام مسجد سمیت 4 افراد کی املاک پر بلڈوزر چلا دیے۔
انڈین آئین کیا کہتا ہے؟
بھارتی آئین تمام شہریوں کو مذہبی آزادی اور اظہار رائے کی مکمل آزادی دیتا ہے اور آئین کے آرٹیکل 25 میں واضح طور پر لکھا ہے کہ تمام شہریوں کو اپنے مذاہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے جبکہ آرٹیکل 19 کی ذیلی شق ایک کے پیرا اے میں درج ہے کہ تمام شہریوں کو اظہار رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے ماسوائے اس صورت کہ اس سے براہ راست نفرت یا اشتعال انگیزی کا خدشہ ہو۔






تبصرے بند ہیں