ممدانی نیویارک کے پہلے مسلم میئر، ٹرمپ کے ساتھ تصادم کا خدشہ

Mamdani becomes New York's first Muslim mayor

نیویارک نے اپنا پہلا مسلم میئر منتخب کرلیا جس کے بعد ظہران ممدانی کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تصادم کی راہ ہموار ہوگئی اور منقسم ڈیموکریٹس کو امید ملی ہے۔

فلسطین کے حامی سوشلسٹ ظہران ممدانی نے پاپولسٹ بائیں بازو کے وعدوں کی ایک سیریز کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے امیدواروں کو شکست دی۔

انہوں نے ٹرمپ کا مقابلہ کیاجنہوں نے اس نتیجے کے بعد دنیا کے مالیاتی دارالحکومت کی فنڈنگ روکنے کی دھمکی دی ہے۔

اپنی وکٹری اسپیچ میں 34 سالہ ممدانی نے اعلان کیا کہ ’اگرکوئی ڈونلڈ ٹرمپ کی دھوکا دہی کی شکار قوم کو دکھا سکتا ہے کہ اسے کیسے شکست دینی ہے، تو یہ وہی شہر ہے جس نے اسے جنم دیا تھا، اگر کسی آمر کو خوفزدہ کرنے کا کوئی طریقہ ہے تو وہ ان حالات کو ختم کرنا ہے جنہوں نے اسے طاقت جمع کرنے کی اجازت دی، یہ صرف ٹرمپ کو روکنے کا طریقہ نہیں ہے، یہ اس سے اگلے کو روکنے کا بھی طریقہ ہے‘۔
ظہران ممدانی نے رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت پر مایوسی کا فائدہ اٹھایا، مفت بسوں، مفت چائلڈ کیئر اور شہر کے زیر انتظام سپر مارکیٹوں کا وعدہ کیا۔

وہ ایک صدی سے زائد عرصے میں شہر کے سب سے کم عمر میئر بنیں گے، انہوں نے کرایہ کنٹرول والے گھروں میں کرائے منجمد کرنے اور شہر کے امیر ترین رہائشیوں پر ٹیکس بڑھانے کا عزم کیا ہے۔

ظہران ممدانی کے خطاب کے دوران ٹرمپ نے اپنے ٹرتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک انتباہ جاری کیا، لکھا ’اور اس طرح یہ شروع ہوتا ہے‘۔

READ  کیلیفورنیا میں برفانی تودہ گرنے سے 8 سیاح ہلاک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں