غزہ میں امداد لوٹنے میں ملوث اسرائیل نواز گینگ کا سربراہ یاسر ابو شباب ہلاک

leader of pro-Israel gang involved in aid theft in Gaza

چیں اسرائیل نواز جرائم پیشہ گینگ کا سرغنہ یاسر ابو شباب ہلاک ہوگیا۔

عرب میڈیا کے مطابق یاسر ابو شباب اسرائیل کے ساتھ مل کر حماس کے خلاف کام کرنے اور انسانی امداد لوٹنے میں ملوث تھا، متعدد اسرائیلی میڈیا اداروں نے بھی اس کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق یاسر ابو شباب کی موت غزہ کے مقامی قبائل کے ساتھ جھڑپوں میں ہوئی اور بعد میں اسے جنوبی اسرائیل کے ساروکا میڈیکل سینٹر لے جاگیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کی۔

عرب میڈیا کے مطابق یاسر ابو شباب غزہ میں جاری جنگ کے دوران ایک بدنام نام بن گیا تھا، اس کے گروہ ’پاپولر فورسز‘ پر الزام تھا کہ وہ غزہ میں داخل ہونے والی امداد چوری کر لیتے تھے۔

یاسر ابو شباب پر غزہ سے فلسطینیوں کو اغوا کرنے اور اسرائیلی فوج کے حوالے کرنے کا بھی الزام تھا۔
غزہ شہر کے ایک مقامی صحافی نے عرب میڈیا کو بتایا کہ یاسر ابو شباب کی ہلاکت کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

صحافی نے کہا کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یاسر ابو شباب کو کس نے قتل کیا؟ صحافی کے مطابق یاسر ابو شباب اور اس کا گروہ غزہ میں منشیات کی اسمگلنگ اور امداد کی لوٹ مار میں ملوث ہونے کی وجہ سے بدنام تھا۔

غزہ میں حماس سے منسلک سکیورٹی فورس رداع نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر یاسر ابو شباب کی ایک تصویر شیئر کی جس کے ساتھ لکھا تھا کہ ’جیسا کہ ہم نے کہا تھا۔۔۔اسرائیل تمہاری حفاظت نہیں کرے گا‘۔

READ  اسرائیلی فوج غزہ کی رہائشی عمارتیں تباہ کرنے لگی، حملوں میں مزید 30 فلسطینی شہید

رپورٹس کے مطابق یاسر ابو شباب کو اس سے پہلے بھی حماس نے منشیات کے مقدمات میں جیل بھیجا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں