انسان جلد ہی 150 برس تک زندہ رہ سکیں گے: ماہرِ جینیات

Humans will soon be able to live to 150 years

ماہرِ جینیات کا کہنا ہے کہ بائیولوجیکل کلاک (انسان کے اندر چلنے والی گھڑی کا ایک نظام) اور ری جووینیشن تحقیق سے متعلقہ کامیابیوں کے بعد انسان 150 برس تک زندہ رہ سکیں گے۔

ماہرِ جینیات اسٹیو ہوروت نے ایک موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک وقت آئے گا جب 150 برس تک زندہ رہنا ایک حقیقت ہوگی۔ البتہ، وہ اس بات کا تعین نہیں کر سکتے کہ یہ کب ہوگا۔

اسٹیو ہوروت نے اقدامات میں پیشرفت ممکنہ طور پر حیاتیاتی عمر کے عمل کو پلٹانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں کوئی شک نہیں کہ ایسا ہوگا۔

ہوروت کے مطابق حیاتیاتی عمر کی نہایت درست انداز میں پیمائش کی صلاحیت نے طویل العمری کی تحقیق میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس سے سائنس دانوں کو یہ جانچنے کا موقع ملا ہے کہ آیا علاج واقعی بڑھاپے کے عمل کی رفتار کو کم کر سکتے ہیں (یا اسے الٹ بھی سکتے ہیں) بجائے اس کے کہ وہ محض بیماریوں کا علاج کریں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی دوا کی افادیت ثابت کرنے سے پہلے جو واقعی زندگی کو طول دے، عمر بڑھنے کے عمل کی پیمائش کے قابلِ اعتماد طریقوں کا ہونا نہایت ضروری ہے۔

READ  گرمیوں میں انڈے کھانا کیا واقعی نقصان دہ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں