وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے وفود کو بات چیت کیلئے اسلام آباد مدعو کرلیا

Prime Minister Shehbaz Sharif invites delegations from Iran and the United States to Islamabad for talks

پاکستان کی کوششوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ، لبنان اور دیگر تمام مقامات سمیت ہر جگہ فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہے۔

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں اس دانشمندانہ اقدام کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے تمام تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک حتمی معاہدے پر مزید گفت و شنید کی غرض سے ان کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد مدعو کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا ہمیں پوری امید ہےکہ ‘اسلام آباد مذاکرات’ پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے اور ہم آنے والے دنوں میں مزید اچھی خبریں شیئر کرنے کے خواہشمند ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے پاکستان کی 2 ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز قبول کرلی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہےکہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی بنیاد پر جنہوں نے ان سے درخواست کی تھی کہ آج رات ایران پر کیے جانے والے تباہ کن حملے کو روک دیا جائے، اور اس شرط پر کہ اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر، فوری طور پر اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر متفق ہو جائے۔

READ  گڈانی کا سمندری پانی گلابی ہوگیا، وجہ بھی سامنے آگئی

ٹرمپ نے کہا کہ وہ پاکستانی قیادت سے ہونے والی بات چیت کی بنیاد پر ایران پر بمباری اور حملے کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر متفق ہیں، یہ دو طرفہ جنگ بندی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں