یو اے ای کا اوپیک سے 59 سال بعد اخراج، عالمی توانائی نظام میں دہائیوں بعد آنے والی بڑی تبدیلی

UAE's exit from OPEC after 59 years is a major change in the global energy system after decades

اسلام آباد: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے اوپیک اور اوپیک پلس سے باضابطہ علیحدگی کا اعلان عالمی توانائی نظام میں دہائیوں بعد آنے والی ایک بڑی تبدیلی تصور کیا جارہا ہے۔

یکم مئی 2026 سے نافذ ہونے والا یہ فیصلہ 59 سالہ رکنیت کا خاتمہ ہے اور یو اے ای کو ایک کارٹل کے رکن سے نکال کر تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی تیل مارکیٹ میں ایک “آزاد کھلاڑی” کی حیثیت دے دیتا ہے۔

2019 میں قطر، 2020 میں ایکواڈور اور 2024 میں انگولا نکل چکے ، دیکھادیکھی دیگرممالک بھی نکل سکتے ہیں، یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی منڈیاں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں اور برینٹ کروڈ پہلے ہی 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ پیداوار کے کوٹے پر طویل عرصے سے جاری تنازع ہے، گزشتہ ایک دہائی میں یو اے ای نے ADNOC کے ذریعے اپ اسٹریم انفراسٹرکچر میں 150 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی، جس سے اس کی زیادہ سے زیادہ پائیدار پیداوار کی صلاحیت تقریباً 5 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی۔

تاہم اوپیک پلس کے تحت اسے عموماً تقریباً 3.2 ملین بیرل یومیہ تک محدود رکھا گیا، جس کے باعث تقریباً 1.8 ملین بیرل یومیہ صلاحیت غیر استعمال شدہ رہی، یعنی کل ممکنہ پیداوار کا تقریباً 40 فیصد۔ عالمی توانائی منتقلی کے تناظر میں، جہاں مستقبل میں تیل کی طلب کم ہونے کا امکان ہے، اس غیر استعمال شدہ صلاحیت کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔

READ  آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل کے چیف ایگزیکٹو افسر ٹم کُک کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

یہ فیصلہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی سے بھی جڑا ہوا ہے، آبنائے ہرمز میں جاری بحران نے تیل کی ترسیل کو شدید متاثر کیا اور اندازوں کے مطابق ایک وقت میں روزانہ 10 ملین بیرل تک برآمدات متاثر ہوئیں، یو اے ای کو خلیجی انفراسٹرکچر پر حملوں اور علاقائی تنازعات کے باعث اضافی دباؤ کا سامنا بھی رہا، جس سے اوپیک پلس کے اندر اعتماد مزید کمزور ہوا۔

یو اے ای کے فیصلے میں ایک اہم اسٹریٹیجک عنصر اس کی متبادل برآمدی صلاحیت ہے، حبشان فجیرہ پائپ لائن، جس کی گنجائش تقریباً 1.5 ملین بیرل یومیہ ہے، تیل کو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے براہ راست خلیج عمان تک پہنچانے کی سہولت دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں