ایران کے جوہری مراکز کا معائنہ ہو کر رہے گا، آئی اے ای اے سربراہ کا دوٹوک اعلان

Iran's nuclear facilities will continue to be inspected,

ٹوکیو: بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ادارے کے معائنہ کار بالآخر ایران کی جوہری افزودگی کی تنصیبات کا معائنہ کریں گے، اگرچہ اس کے وقت کے تعین کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی شیڈول موجود نہیں۔

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رافیل گروسی نے کہا کہ ایران کے جوہری مراکز کا معائنہ ہونا یقینی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل دو دن، ایک ہفتے یا دس دن بعد ہو سکتا ہے، تاہم اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ معائنہ ضرور ہوگا۔

آئی اے ای اے سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری نگرانی اور معائنوں کے معاملے پر مختلف مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے اور جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے آئی اے ای اے سربراہ رافیل گروسی کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی ممکنہ معائنے کے لیے کوئی واضح شیڈول طے کیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں جوہری پروگرام کی نگرانی اور بین الاقوامی معائنے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔ ایسے میں آئی اے ای اے کے سربراہ کا تازہ بیان اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں جوہری نگرانی کے حوالے سے پیش رفت متوقع ہو سکتی ہے۔

READ  امریکی حملے کے بعد تہران سے مشہد جانے والی ٹرین سروس معطل

واضح رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر عالمی برادری کی توجہ مسلسل مرکوز ہے اور بین الاقوامی ایٹمی ادارہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کو خطے کے استحکام کے لیے اہم قرار دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں