کراچی : لی مارکیٹ میں 6 سالہ ولی کے قتل کیس میں بہن نے انکشاف کیا کہ ملزم حمزہ خود ان کے گھر آیا اور کہا میں تمہارا بھائی تلاش کر کے دوں گا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے لی مارکیٹ سے ملنے والی 6 سالہ معصوم بچے ‘ولی’ کی تشدد زدہ لاش کے کیس میں انتہائی چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے۔
مقتول بچے کی بہن اور پولیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ قاتل کوئی اجنبی نہیں بلکہ معصوم ولی کو اغوا اور قتل کرنے کے بعد خود کو بچانے کے لیے ڈرامے بازی کرتا رہا۔
مقتول ولی کی بہن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بھائی کی گمشدگی کے بعد ملزم حمزہ خود ان کے گھر آیا ،حمزہ نے ہم سے ہمدردی جتائی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی تلاش کر کے دوں گا۔ وہ مسلسل ہمارے ساتھ گھومتا رہا اور ولی کو ڈھونڈنے کا ناٹک کرتا رہا تاکہ کسی کو اس پر شک نہ ہو۔”
تفتیشی افسر عارف تنولی نے بتایا کہ ملزم حمزہ نے صرف خاندان کو ہی نہیں بلکہ پولیس کو بھی شدید گمراہ کیا، ملزم حمزہ خود پولیس کے پاس آیا اور کہا کہ "میں اصلی ملزمان کو پکڑواتا ہوں”۔
اس نے پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹی کہانیاں گھڑیں، جس پر پولیس نے اس کی نشاندہی پر سلطان آباد اور گزری کے علاقوں میں چھاپے بھی مارے ، ملزم ہمیں جہاں جہاں لے کر گیا اور جن لوگوں یا برادریوں پر شک ظاہر کر رہا تھا، تفتیش میں وہ سب باتیں جھوٹی اور برعکس نکلیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچے کی بازیابی کے لیے کوششیں انتہائی تیز کر دی گئی تھیں اور شک پڑنے پر علاقے میں گھر گھر سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جس کے لیے لیڈی سرچرز کو بھی طلب کر لیا گیا تھا۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ جب ملزم حمزہ کو اندازہ ہو گیا کہ پولیس اب اس کے بالکل قریب پہنچ چکی ہے اور وہ بچ نہیں پائے گا، تو اس نے پکڑے جانے کے خوف سے معصوم بچے کو اوپر سے نیچے پھینک دیا، جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔






تبصرے بند ہیں