متنازع خطاب ، عدالت نے مولانا فضل الرحمان کو طلب کر لیا

Court summons Maulana Fazlur Rehman

گوجرانوالہ کی مقامی عدالت نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو متنازع خطاب پر 28 جولائی کو طلب کر لیا۔

مولانا فضل الرحمان کیخلاف متنازع خطاب پر اندراج مقدمہ کی درخواست کی سماعت ہوئی، درخواست میں مولانا فضل الرحمان کیخلاف نقص امن کا الزام عائد کیا گیا۔

ایڈیشنل سیشن جج فیصل جمیل نے مولانا فضل الرحمان کو 28 جولائی کو طلب کر لیا ، عدالت نے پولیس کو بھی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیدیا۔

واضح رہے مولانا فضل الرحمان نے قصور میں کارکنوں سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ فوجی اہلکار ملک کی خدمت کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں اور انہیں اس خدمت کے عوض تنخواہ بھی ملتی ہے ، اس بیان کے بعد مولانا فضل الرحمان شدید تنقید کی زد میں آ گئے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا۔ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے جے یو آئی سربراہ کے خطاب کو اخلاق کے تقاضوں اور اسلامی تعلیمات سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ “شہادت کا مقام کسی دنیاوی معاوضے سے کہیں بلند ہے۔ تنخواہ خدمت کا معاوضہ ہو سکتی ہے، لیکن جان کا نذرانہ کبھی کسی مالی قیمت میں نہیں تولا جا سکتا۔”

READ  کراچی: گلشن حدید میں گھر سے 5 افراد کی لاشیں برآمد

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہدا پر کسی بھی سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ ان کی قربانیوں کا کوئی مول نہیں ہو سکتا۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری بھی شامل تھے جنہوں نے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں کہا کہ ہم جوانوں اور افسروں کی لازوال قربانیوں کے باعث سکون کی نیند سوتے ہیں جو ہر محاذ پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کے لہو سے لکھی گئی تاریخ کسی سیاسی بیان، طنز یا تمسخر سے نہ مٹ سکتی ہے اور نہ ہی ان عظیم قربانیوں کی قدر کم کی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں