امریکا کا چین کیخلاف وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کرنا سفارتی طور پر مشکل ہوگا: مارک فائیفل

Imposing large-scale sanctions on China would be diplomatically difficult for the US

امریکا کے سابق قومی سلامتی کے عہدیدار مارک فائیفل کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ امریکا کو ایران سے خام تیل خریدنے والے چینی خریداروں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

انہوں نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں ٹرمپ اور امریکی محکمۂ خزانہ اس اقدام کو اپنے پاس محفوظ رکھیں گے اور اگر ضرورت پیش آئی تو اسے استعمال کریں گے۔

مارک فائیفل کے مطابق بیجنگ کے خلاف وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کرنا سفارتی طور پر مشکل ہوگا، کیونکہ دونوں ممالک کی معیشتیں اب بھی ایک دوسرے سے گہری طرح جڑی ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فی الحال امریکا کی کوشش یہ ہے کہ چین کو دیگر ذرائع سے تیل خریدنے پر آمادہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ چینی ریفائنریاں پابندیوں کی زد میں موجود ایرانی خام تیل کو رعایتی نرخوں پر خرید رہی ہیں، جس سے انہیں عالمی حریفوں کے مقابلے میں فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔

سابق قومی سلامتی کے عہدیدار کے مطابق بیجنگ نے واشنگٹن کی مدد کرنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی اور غالب امکان ہے کہ وہ خاموشی سے تہران کی مدد کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی طویل مدتی حکمتِ عملی پر چل رہے ہیں، انہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ امریکا ایران میں جاری جنگ جیسے ایک اور بین الاقوامی محاذ میں الجھا رہے۔

واضح رہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ کی 24 ستمبر کو واشنگٹن ڈی سی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔

READ  بوسٹن میراتھون: پاکستانیوں کی شاندار کارکردگی، محمد امجد علی تیز ترین پاکستانی رنر رہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں