آسٹریلیا سے امریکا بھیجے گئے ایف-35 کے حساس پرزے چین پہنچ گئے، تحقیقات کا آغاز

آسٹریلیا سے امریکا بھیجے جانے والے ایف-35 لڑاکا طیاروں کے انتہائی حساس پرزوں کی کھیپ ہانگ کانگ منتقل ہونے پر امریکی حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کھیپ میں ایف-35 طیارے کا حفاظتی شیلٹر (F-35 canopy) بھی شامل تھا جو طیارے کے خفیہ رہنے کی صلاحیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، شیلٹر پر ریڈار شعاعیں جذب کرنے والی خاص تہہ لگی ہوتی ہے جو طیارے کی ریڈار میں آنے کی صلاحیت اور شناخت کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

پرزے ایک تجارتی ایجنٹ کے ذریعے منتقل کیے جا رہے تھے تاہم یہ واضح نہیں کہ کھیپ کو ہانگ کانگ کے بعد کہاں بھیجا گیا یا اس وقت پرزے کہاں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ کانگریس کی قومی سلامتی سے متعلق کمیٹیوں نے بھی معاملے کی چھان بین شروع کر دی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام نے جون سے کمیٹیوں کے عملے کو معاملے پر بریفنگ دینا شروع کیں اور اس معاملے پر مزید اجلاس متوقع ہیں۔

ایف-35 پروگرام کے دفتر نے بھی طیارے کے پرزوں کی کھیپ سے متعلق مسئلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکام متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ مل کر پرزے واپس حاصل کرنے، واقعے کی تحقیقات اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا میں ایف-35 طیاروں کی دیکھ بھال کی سہولتیں موجود ہیں تاہم فی الحال کوئی بھی مرکز ان طیاروں کے شیلٹر کی مرمت کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

READ  غزہ میں بھوک سے ہونے والی اموات پر پوپ لیو کا اظہارِ تشویش

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں