صومالیہ میں بحری جہاز میں زخمی شوہر کے علاج کیلئے حکومتی تعاون نہیں مل رہا، اہلیہ کا الزام

صومالیہ میں جہاز کے واقعے میں زخمی ہونے والے امین الشمس کی اہلیہ عائشہ امین نے کہا ہے کہ شوہر کو کراچی لانے کے بعد اسپتال میں داخل کروایا گیا، تاہم علاج کے اخراجات کے لیے حکومتی تعاون نہیں مل رہا۔

عائشہ امین کے مطابق اسپتال میں ابتدائی طور پر زخموں کی صفائی کی گئی اور انہیں ڈسچارج کردیا گیا تھا، بعد ازاں اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ امین الشمس کی دو سرجریز ہونا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری احکامات میں صرف ایمرجنسی علاج فراہم کرنے کا کہا گیا تھا، سرکاری لیٹر لے کر اسپتال گئے تب بھی 19 ہزار روپے خرچ ہوئے۔

عائشہ امین کا کہنا تھا کہ آج اسپتال پہنچے تو انتظامیہ نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے علاج کے لیے ایڈوانس رقم جمع نہیں کروائی گئی، تاہم آج امین الشمس کے آپریشن کے لیے تاریخ مل گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے شوہر کی وطن واپسی کے لیے جدوجہد کی اور اب ان کے علاج کے لیے پریشان ہیں، حکومت کی جانب سے کوئی مدد نہیں مل رہی۔

امین الشمس کی اہلیہ کے مطابق شوہر کی تنخواہ ابھی تک موصول نہیں ہوئی، اس کے باوجود اب تک جو رقم خرچ ہوئی ہے، وہ بھی آدھی سے زیادہ ہوچکی ہے۔

صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 پر قزاقوں کے خلاف آپریشن میں مغوی امین بن شمش زخمی ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ صومالی قزاقوں سے چھڑائے گئے آئل ٹینکر MT Honor 25 میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کی میتیں اور 4 زخمی 4 اکتوبر کو کراچی پہنچے تھے۔

READ  خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے 5 ناراض امیدواروں میں سے 4 سینیٹ الیکشن سے دستبردار ہوگئے

گورنر سندھ نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ صومالیہ بحری جہاز کے متاثرہ خاندانوں کیلئے فی خاندان ایک کروڑ 25 لاکھ روپے مالی معاونت کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے صومالیہ میں جاں بحق پاکستانی کاشف عمر کے بیٹے اذہان کاشف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی، جس میں انہوں نے سید کاشف عمر کے انتقال پر ان کے بیٹے اذہان کاشف سے تعزیت کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم نے جاں بحق تینوں پاکستانیوں کے بچوں کے لیے مفت تعلیم، صحت کی سہولتیں اور رہائش گاہ دینے کا اعلان کیا۔ جاں بحق پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ 25 لاکھ روپے فی خاندان مالی معاونت کا بھی اعلان کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں