پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر شاداب خان نے دھواں دار اننگز کھیل کر ٹیم کو فتح دلوادی، جس کے بعد پاکستان نے انگلینڈ کو شکست دے کر ٹرائی سیریز کے فائنل میں جگہ بنا لی۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں شاداب خان نے انگلینڈ کے خلاف ناقابلِ یقین اننگز کھیل کر پاکستان کو تاریخی فتح دلا کر عبدالرزاق کی یاد تازہ کردی۔
شاداب خان نے 96 گیندوں پر 113 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی، جس میں 13 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے، جبکہ حارث رؤف نے بھی آخری وکٹ پر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
پاکستان کو آخری وکٹ پر جیت کے لیے 88 رنز درکار تھے اور اس کا اسکور 154 رنز پر 9 وکٹیں تھا۔ شاداب خان اور حارث رؤف نے 89 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کرکے پاکستان کو فتح سے ہمکنار کیا۔
حارث رؤف نے 47ویں اوور کی پہلی گیند پر چوکا لگا کر پاکستان کو کامیابی دلائی۔ اس فتح کے ساتھ پاکستان نے ٹرائی سیریز کے فائنل میں بھی جگہ بنا لی۔
شاداب خان کی یہ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلی سنچری تھی، جس نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ ان کی اور حارث رؤف کی 89 رنز کی شراکت ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں کامیاب ہدف کے تعاقب کے دوران دسویں وکٹ کی سب سے بڑی شراکت بن گئی۔
اس سے قبل یہ ریکارڈ ڈیرک مرے اور اینڈی رابرٹس کے پاس تھا، جنہوں نے 1975 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف 64 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کی تھی۔
خیال رہے کہ 31 اکتوبر 2010 کو ابو ظبی میں جنوبی افریقہ کے سیریز کے دوسرے ون ڈے میچ میں لیجنڈری آل راؤنڈر عبدالرزاق نے بھی اسی طرز کی بیٹنگ کا مظاہرہ کرکے اپنا نام ریکارڈ بک میں درج کروایا تھا۔
اس میچ میں جب عبدالرزاق بیٹنگ کےلیے کیریز پر آئے تو قومی ٹیم کو جیت کےلیے 151 رنز درکار تھے، جبکہ اسکی 5 وکٹیں باقی تھیں، تاہم مطلوبہ رن ریٹ زیادہ تھا۔
عبدالرزاق نے فواد عالم، ذوالقرنین حیدر، وہاب ریاض، سعید اجمل اور پھر آخر میں شعیب اختر کے ساتھ شراکتیں بناتے ہوئے 109 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی اور پاکستان کو 1 وکٹ سے جیت دلوادی۔
یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ شاداب خان نے انگلینڈ کے خلاف میچ میں جب کیریز سنبھالی تو ٹیم کو جیت کےلیے 139 رنز درکار تھے جبکہ اسکی صرف 4 وکٹیں باقی تھیں۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ انگلینڈ کے خلاف میچ میں قومی ٹیم 154 رنز پر ہی 9 وکٹیں گنوا بیٹھی تھی، اور یہاں سے شاداب خان نے حارث رؤف کے ساتھ 89 رنز کی پارٹنرشپ بنا کر ٹیم کو جیت دلوائی۔






تبصرے بند ہیں