نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ آج کے کاروباری اداروں میں جابرانہ قیادت سے وابستہ شخصیت کی خصوصیات تقریباً 400 سال قبل عالمی سرمایہ داری کے ابتدائی دور میں بھی موجود تھیں۔
ایوریک الرٹ کی رپورٹ کے مطابق ایشین جرنل آف بزنس ایتھکس میں شائع ہونے والی تحقیق میں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے تجارتی منتظم جیرونیمس کورنیلیسز (Jeronimus Cornelisz) کو باضابطہ دنیا کا قدیم ترین کارپوریٹ سائیکوپیتھ قرار دیا گیا ہے۔
انگلِیا رسکن یونیورسٹی (اے آر یو) کے ڈاکٹر کلائیو باڈی کی یہ تحقیق اس اعتبار سے پہلی سمجھی جاتی ہے کہ اس میں جیرونیمس کورنیلیسز کے رویّے کا جائزہ کسی تسلیم شدہ کارپوریٹ سائیکوپیتھی کے تجزیاتی معیار کے تحت منظم انداز میں لیا گیا، نہ کہ صرف تاریخی واقعات کی تشریح پر انحصار کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق جیرونیمس کورنیلیسز میں کارپوریٹ سائیکوپیتھس سے وابستہ تمام 10 بنیادی خصوصیات پائی گئیں۔
ان خصوصیات میں لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے خوش گفتاری اور دل فریبی سے کام لینا، اپنے گرد وفادار حامیوں کا حلقہ بنانا، ممکنہ حریفوں کو راستے سے ہٹانا، مخالفین کے درمیان اختلافات پیدا کرنا، خوف کی فضا قائم کرنا، معاملات بگڑنے پر ذمے داری قبول کرنے سے گریز کرنا اور ہر چیز پر طاقت، دولت اور اختیار کو ترجیح دینا شامل ہیں۔
ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی دنیا کی پہلی کثیرالقومی کمپنی تھی جس کی ملکیت حصص یافتگان کے پاس تھی، اسی کمپنی نے 1602ء میں ایمسٹرڈیم میں اس ادارے کی بنیاد رکھی جو دنیا کی اولین اسٹاک ایکسچینجز میں شمار ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق جیرونیمس کورنیلیسز کا معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ طاقت، دولت اور ذاتی ترقی کے خواہش مند افراد سرمایہ دارانہ کاروبار کے ابتدائی دور سے ہی تجارتی اداروں کی جانب راغب ہوتے رہے ہیں۔
بحری جہاز کی تباہی اور قتلِ عام
تحقیق کا مرکزی موضوع 1629ء میں مغربی آسٹریلیا کے ساحل کے قریب چٹانوں سے ٹکرا کر تباہ ہونے والا بدنامِ زمانہ بحری جہاز ’باتاویا‘ ہے، جس کی تباہی کے بعد تقریباً 200 افراد مختلف دور افتادہ جزائر پر پھنس گئے تھے۔
جہاز کے اعلیٰ افسران امداد طلب کرنے کے لیے موجودہ انڈونیشیا کے شہر جکارتہ روانہ ہو گئے، جس کے بعد کمپنی کے ماتحت تاجر جیرونیمس کورنیلیسز زندہ بچ جانے والوں میں سب سے سینئر کارپوریٹ عہدیدار رہ گئے۔
ڈاکٹر کلائیو باڈی نے تحقیق میں وضاحت کی ہے کہ جیرونیمس کورنیلیسز نے تیزی سے اقتدار مستحکم کیا، اس مقصد کے لیے اس نے کونسل کے ارکان کی جگہ اپنے وفادار حامیوں کو تعینات کیا، لوگوں سے ذاتی وفاداری کے حلف لیے اور ممکنہ مخالفین کو الگ تھلگ کر دیا۔
ان کی قیادت میں تقریباً 100 مردوں، خواتین اور بچوں کو قتل کر دیا گیا، جبکہ بعض خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔






تبصرے بند ہیں