نئے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا کے انتخاب کے لیے پی ٹی آئی میں سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔
ذرائع کے مطابق وزیرِ اعلیٰ کے معاملے پر پی ٹی آئی کے کئی مرکزی رہنماؤں اور ایم پی ایز میں اختلافِ رائے ہے۔
چند اہم مرکزی رہنماؤں کی خواہش ہے کہ بونیر یا ہزارہ سے کسی کو وزیرِ اعلیٰ بنایا جائے جبکہ 30 سے زیادہ اراکینِ اسمبلی علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیرِ اعلیٰ بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بانئ پی ٹی آئی سے مشاورت نہ ہونے کی صورت میں نئے وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب عارضی ہو گا، جب تک بانی سے ملاقات نہیں ہوتی، پارلیمانی پارٹی کا منتخب کردہ شخص ہی وزیرِ اعلیٰ رہے گا، پی ٹی آئی کے بیشتر اراکین نے اس سے متعلق الگ واٹس ایپ گروپ بھی بنایا ہے۔
ترجمان پی ٹی آئی خیبر ختون خوا شوکت یوسفزئی نے جیو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختون خوا کے نئے وزیرِ اعلیٰ سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی نااہل ہوئے تو پارٹی قیادت مشاورت سے نئے وزیرِ اعلیٰ کا فیصلہ کرے گی، صوبے کی نمائندگی کرنے کے لیے علی امین گنڈا پور کا نام پارلیمانی پارٹی نے پیش کیا تھا۔
شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ اراکینِ اسمبلی نے واٹس گروپ آپس میں رابطے بحال رکھنے کے لیے بنایا ہے، پی ٹی آئی میں کوئی گروپ بندی نہیں۔





تبصرے بند ہیں