یورپ کے دلکش اور مہنگے ترین ممالک میں شمار ہونے والے اسپین نے غیر یورپی شہریوں کے لیے کم ترین قیمت پر ویزا متعارف کروا دیا ہے، جس کی فیس صرف 75 ڈالر (تقریباً 21 ہزار پاکستانی روپے) مقرر کی گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپین نے ’ڈیجیٹل نومیڈ ویزا‘ کے نام سے یہ نیا ویزا متعارف کرایا ہے، جو ان افراد کے لیے ہے جو ریموٹ ورک کرتے ہیں اور اسپین میں ایک سال یا اس سے زیادہ قیام کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ویزا ’اسٹارٹ اپ ایکٹ‘ کے تحت متعارف کرایا گیا ہے تاکہ دنیا بھر سے باصلاحیت افراد اور فری لانس پروفیشنلز کو اسپین کی جانب راغب کیا جا سکے۔
ڈیجیٹل نومیڈ ویزا کی خصوصیات: یہ ویزا صرف غیر یورپی شہریوں کے لیے ہے، ویزا ہولڈر کسی غیر ہسپانوی کمپنی کا ملازم ہو سکتا ہے یا بطور فری لانسر کام کر سکتا ہے، درخواست گزار کی 80 فیصد آمدنی اسپین سے باہر کے ذرائع سے ہونی چاہیے، ویزا حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار کی کمپنی یا فری لانس سرگرمی کم از کم ایک سال سے جاری ہو۔
ویزا حاصل کرنے کے بعد اسپین میں ایک سال تک قیام کیا جا سکتا ہے، جسے بعد میں توسیع دی جا سکتی ہے۔
اہلیت اور شرائط: کم از کم تین ماہ کا ریموٹ ورک تجربہ کسی کلائنٹ یا کمپنی کے ساتھ ہونا چاہیے، آمدنی کے ذرائع، ملازمت یا کاروبار کا تسلسل اور قانونی حیثیت کے شواہد فراہم کرنا ہوں گے، امیدوار کو کریمنل ریکارڈ نہ ہونے کا ثبوت بھی دینا ہوگا۔
اہم فائدے : یورپ میں سب سے کم لاگت والا ورک ویزا، روایتی ورک پرمٹ کے مقابلے میں آسان اور تیز تر عمل، ویزا ہولڈر اہل ہو تو اپنے اہلِ خانہ کو بھی اسپین لا سکتا ہے۔
درخواست گزار اپنے ملک سے یا اسپین میں قیام کے دوران بھی اس ویزے کے لیے اپلائی کر سکتا ہے۔ درخواست کے ساتھ ملازمت یا کاروبار سے متعلق ثبوت، آمدنی کی تفصیلات اور دیگر مطلوبہ دستاویزات جمع کرانی ہوں گی۔
اسپین کا یہ اقدام ان افراد کے لیے ایک بڑی سہولت ہے جو یورپ میں رہائش اور کام کے مواقع تلاش کر رہے ہیں، خاص طور پر ایسے فری لانسرز اور ریموٹ ورکرز کے لیے جو کم لاگت میں یورپی تجربہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔





تبصرے بند ہیں