بھارتی پنجاب کی سیاست میں ایک بڑا تنازع کھڑا ہوگیا ہے، جہاں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ایم ایل اے ہرمیت پٹھن مَجرا سنگین الزامات اور گرفتاری کے بعد پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہرمیت پر جنسی زیادتی، دھوکا دہی اور مجرمانہ دھمکیوں کے مقدمات درج ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد جب انہیں تھانے منتقل کیا جا رہا تھا تو انہوں نے ساتھیوں کے ساتھ پولیس پر فائرنگ کی اور ایک اہلکار کو گاڑی تلے کچلتے ہوئے فرار ہو گئے۔
پولیس نے پیچھا کرتے ہوئے ایک گاڑی کو پکڑ کر تین خطرناک ہتھیار برآمد کیے، تاہم ہرمیت دوسری گاڑی میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کی تلاش کے لیے پولیس کی کئی ٹیمیں سرگرم ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ ایک 45 سالہ خاتون کی شکایت پر درج کیا گیا ہے۔ خاتون کا الزام ہے کہ ہرمیت نے خود کو طلاق یافتہ ظاہر کرکے تعلقات قائم کیے، دونوں کے تعلقات 2013ء میں شروع ہوئے اور 2021ء میں لدھیانہ کے ایک گردوارے میں شادی بھی کی۔ تاہم 2022ء کے اسمبلی انتخابات میں ہرمیت نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں صرف پہلی بیوی کا نام ظاہر کیا۔
خاتون نے مزید الزام لگایا کہ ایم ایل اے نے اسے دباؤ میں رکھا، دھمکیاں دیں اور نازیبا مواد بھی بھیجا۔ ہرمیت کے فرار نے پنجاب کی سیاست اور عام آدمی پارٹی کی حکومت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔






تبصرے بند ہیں