بالی وُوڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن کے صاحبزادے ابھیشیک بچن طویل فلمی کیریئر میں آخرکار پہلا فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تاہم ناقدین نے ان پر ایوارڈ خریدنے کا الزام بھی عائد کیا۔
ابھیشیک بچن کو یہ ایوارڈ ان کی فلم I Want to Talk (2024) میں شاندار اداکاری پر دیا گیا تھا جس میں انھوں نے کینسر سے جنگ لڑنے والے شخص کا کردار ادا کیا تھا۔
ابھیشیک کو ایوارڈ ملنے پر صحافی نوینیت مندھرا نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ ایوارڈ تعلقات اور پیسے کا کھیل ہے، اصل میں تو یہ فلم کسی نے دیکھی بھی نہیں۔
جونیئر بچن جو سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں نے فوری جوابی ٹویٹ کیا کہ میں نے کوئی ایوارڈ خریدا نہیں۔ میری کامیابی 25 سال کی محنت، پسینے اور آنسوؤں کا نتیجہ ہے۔
انھوں نے صحافی برادری سے شکوہ کیا کہ کسی کا نام خراب کرنے سے پہلے ذمہ داری دکھانی چاہیے، خاص طور پر ان صحافیوں کو جو "رائے” کے نام پر الزامات لگاتے ہیں۔
جس پر صحافی نوینیت نے وضاحت دی کہ وہ صرف “ذاتی رائے” دے رہے تھے تو ابھیشیک نے بھی چٹکی بھری کہ کسی پر ایوارڈ خریدنے کا الزام لگانا رائے نہیں، بے بنیاد الزام ہے۔
یاد رہے کہ فلم I want to talk میں ابھیشیک نے ایسے شخص کا کردار نبھایا ہے جو اپنی زندگی، جذبات اور تعلقات کے درمیان کہیں کھو گیا ہے۔
وہ بولنا چاہتا ہے، سب کچھ کہنا چاہتا ہے، مگر زبان نہیں… صرف آنکھیں بولتی ہیں لہذا فلم میں ڈائیلاگز کم ہیں لیکن اظہار زیادہ ہے۔
فلم میں ابھیشیک کا کردار غصے سے نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے شخص کے صبر سے لڑتا نظر آتا ہے۔ ہر سین میں تھکن نہیں اور اندر لگی آگ جھلکتی ہے۔
ابھیشیک نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف بچن خاندان کی پہچان نہیں بلکہ اپنی محنت اور فن کے بل پر بھی کھڑے ہیں۔
ابھیشیک بچن نے اس فلم میں بہت جاندار کردار نبھایا اور بااعتماد اداکاری کی لیکن فلم فیئر ایوارڈ لیتے ہوئے اسٹیج پر ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔
ایوارڈ لیتے ہوئے کانپتی آواز کے ساتھ انہوں نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ کتنی بار میں نے آئینے کے سامنے یہ تقریر دہرائی تھی۔ آج یہ خواب حقیقت بن کر میرے سامنے ہے۔
انھوں نے کہا کہ زندگی کے اس اہم اور تاریخی موقع پر میری فیملی میرے سامنے موجود ہے اور یہ میرے لیے بہت اہم ہے۔
ابھیشیک بچن نے اپنے والدین امیتابھ اور جیا بچن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ میرا اثاثہ ہوں جن کے بغیر میں کچھ نہیں۔





تبصرے بند ہیں