ہم فلسطین اور اسرائیل کیلئے امن اور ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننا چاہتے ہیں: سعودی ولی عہد

Abraham Accords for Palestine and Israel

واشنگٹن: سعودی ولی عہدشہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ہم فلسطین اور اسرائیل کیلئے امن اور ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

اوول ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ہم فلسطین اور اسرائیل کے لیے امن چاہتے ہیں،ہم ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننا چاہتے ہیں، معاہدے کا حصہ بننے کے ساتھ دو ریاستی حل کا راستہ بھی محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔

ایک صحافی نے ٹرمپ اور سعودی ولی عہد سے پوچھا کہ کیا امریکا اور سعودی کے درمیان دفاعی معاہدے پر کوئی اتفاق ہو گیا ہے اور کیا ابراہیمی معاہدوں پر بات چیت ہوئی ہے؟

اس پر سعودی ولی عہد نے جواب کیا کہ ہم ابراہیمی معاہدوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دو ریاستی حل کا راستہ بھی محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ان کی ٹرمپ کے ساتھ اچھی گفتگو ہوئی ہے۔پھر ٹرمپ نے بھی تصدیق کی کہ ان کے درمیان بہت اچھی بات چیت ہوئی ۔

جہاں تک دفاعی معاہدے کا تعلق ہے، ٹرمپ نے کہا کہ اس پر فریقین "تقریباً” اتفاق کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ(Abraham Accords) 2020 میں ہونے والے امن معاہدوں کا نام ہے، جو امریکا کی ثالثی سے ہوئے۔ ان معاہدوں کے تحت کچھ عرب ممالک نے پہلی بار اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے۔

2020 میں یو اے ای اور بحرین معاہدات ابراہیمی میں شامل ہوئے تھے تاہم بعد ازاں مراکش اور سوڈان نے بھی اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانےکے معاہدے پر دستخط کردیے تھے۔

READ  افغان طالبان نے صوبہ خوست کے سرکاری عہدیداروں کے ویڈیو انٹرویو پر پابندی عائد کردی

گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ قازقستان بھی ابراہیمی معاہدے میں شامل ہورہا ہے۔ مزید ممالک بھی ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں