وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ماؤں، بہنوں سے درخواست ہے اپنی تصویر کسی سے شیئر نہ کریں، خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز سے ملزمان انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔
این سی سی آئی اے لاہور میں کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پنجاب بھر میں این سی سی آئی اے کے پاس 61 افراد ہیں، سائبر کرائم کے پاس بچیوں سے ہراسانی کے کیس سب سے زیادہ آ رہے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ کوئی آپ سے آن لائن پیسے مانگ رہا ہے تو ہرگز ٹرانسفر نہیں کیجیے، کوئی شخص بیمار بن کر آپ سے پیسے مانگے تو بھی رقم ٹرانسفر مت کیجیے، بچیوں اور عام آدمی کیلئے آگاہی مہم بھی شروع کرنے جا رہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ سائلین کے مسائل حل کرنے کیلئے نفری پوری کی جائے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ این سی سی آئی اے نے کئی اہم کیسز میں ملزمان کو پکڑا ہے، سائبر پولیس کو ہر طرح سے مضبوط کریں گے، سرکاری ملازم ہو یا کوئی اور سائبر کرائم میں جو بھی ملوث ہوا پکڑا جائے گا۔
اس سے قبل این سی سی آئی اے میں محسن نقوی نے کھلی کچہری کے دوران سائلین کی درخواستیں سنیں اور موقع پر احکامات جاری کیے، سائلین نے کئی ماہ سے این سی سی آئی اے کے چکر لگانے کے باوجود مسائل حل نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان گرفتار نہیں ہو رہے، ہم انصاف کے لیے کہاں جائیں؟
محسن نقوی نے کہا اب ایسا نہیں ہوگا کہ ملزمان گرفتار نہ ہوں، ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، وزیر داخلہ نے این سی سی آئی اے کو ہر سائل کی عزت کے ساتھ بات سننے کی ہدایت کردی۔






تبصرے بند ہیں