چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کا اجلاس بلائے اور نیا این ایف سی ایوارڈ جاری کرے۔
حیدرآباد میں اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی ناکامیوں کا بوجھ صوبوں پر منتقل نہ کرے، کیونکہ ایف بی آر کے ٹیکس اہداف پورے نہ کرنے کی ذمہ داری صوبوں کی نہیں بلکہ وفاقی حکومت اور ایف بی آر کے انتظامیہ کی ناکامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں، اور وفاقی حکومت کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔ بلاول نے زور دیا کہ صوبوں کو اٹھارہویں ترمیم کے تحت دی گئی ذمہ داریوں کے مطابق وسائل بھی فراہم کیے جائیں، کیونکہ ستائیسویں ترمیم محض ایک سیاسی بات ہے جس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ستائیسویں ترمیم کے حوالے سے ابھی تک ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ انہوں نے چھبیسویں ترمیم کو تاریخی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اگر کوئی جماعت اس پر اعتراض کرتی ہے تو یہ ان کی اپنی مسائل کی وجہ سے ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کی جانب سے بھارت کو دی گئی عبرت ناک شکست کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بھارت ہوش میں نہیں آ رہا۔ انہوں نے بھارت کی طرف سے پانی بند کرنے کی دھمکی کو بزدلانہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنی آگاہی دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اپنے اس بزدلانہ موقف سے پیچھے نہیں ہٹ رہا، اور اس کے خلاف متحد ہو کر جواب دینا ہوگا۔ پورا پاکستان مل کر مودی کی چالوں کا منہ توڑ جواب دے گا۔





تبصرے بند ہیں