دنیا بھر میں کروڑوں افراد دن کی شروعات ایک کپ کافی سے کرتے ہیں، مگر کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ یہ ان کے معدے میں موجود بیکٹیریا پر اثر ڈال سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف ورزبرگ میں پروفیسر اینا ریٹا بروچاڈو کی سربراہی میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ غذا میں شامل کچھ اجزاء، جیسے کیفین، مخصوص اینٹی بائیوٹکس پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم نے مختلف اینٹی بائیوٹکس، انسانی ادویات اور خوراک کے عام اجزاء کو جانچا، اور مشاہدہ کیا کہ کیفین کی موجودگی میں بعض اثرات نہایت نمایاں تھے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق، کیفین روب (rob) نامی ایک جین کو متحرک کرتی ہے، جس کی وجہ سے بیکٹیریا سیپروفلوکسین جیسی اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے لگتے ہیں۔
تاہم محققین کا کہنا ہے کہ کیفین تمام اقسام کے بیکٹیریا پر اثر انداز نہیں ہوتی، بلکہ یہ صرف آنتوں میں موجود صحت مند ای کولی بیکٹیریا میں اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مدافعت کو بڑھاتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ بیکٹیریا اپنے ماحول میں موجود اجزاء کو پہچان کر ان پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔





تبصرے بند ہیں