سینئر صحافی نجم سیٹھی نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے استعفے کی خبروں اور ان کے ٹویٹس کے پس منظر میں اہم انکشافات کیے ہیں۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے بتایا کہ خواجہ آصف کے ایک قریبی دوست، جو ماضی میں ریٹرننگ افسر رہ چکے ہیں اور اس وقت سیالکوٹ میں اے ڈی سی آر کے عہدے پر فائز تھے، ایک زمین کے تنازع میں ملوث ہو گئے۔ اس زمین پر ایک کمپنی اور چند بھائیوں کا دعویٰ تھا، جبکہ خواجہ آصف چاہتے تھے کہ یہ زمین ان کو دی جائے۔ اے ڈی سی آر نے اس تنازع میں ان کے حق میں کارروائی کی، مگر بعد میں کیس بنا کر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
خواجہ آصف نے اپنے دوست کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالا، لیکن کمپنی کے بیوروکریسی سے تعلقات ہونے کے باعث ان کا کیس مضبوط نکلا اور دوست کو حراست میں ہی رکھا گیا۔ اس صورتحال پر خواجہ آصف ناراض ہو گئے اور غیر رسمی طور پر یہ پیغام پھیلایا کہ وہ استعفیٰ دے رہے ہیں، حالانکہ خود اس کا اعلان نہیں کیا۔
نجم سیٹھی کے مطابق بعد میں بات چیت کے ذریعے خواجہ آصف کو منا لیا گیا اور ان کے دوست کی رہائی کے امکانات پیدا ہوئے، جس کے بعد انہوں نے استعفیٰ دینے کی تردید کر دی۔ سیٹھی نے کہا کہ خواجہ آصف غصے میں بیوروکریسی پر سخت الزامات لگا دیتے ہیں اور بعد میں وضاحت کر دیتے ہیں کہ ان کا مقصد ایسا نہیں تھا۔






تبصرے بند ہیں