بھارتی حکومت نے اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ کی فلم ’ستلج‘ کو ریلیز کے 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اسٹریمنگ پلیٹ فارم زی فائیو (ZEE5) کے بھارتی کیٹلاگ سے ہٹانے کی ہدایت جاری کر دی۔
فلم انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی ہے، جس میں پنجاب میں 1980 اور 1990 کی دہائی کے دوران انسدادِ شورش کارروائیوں کے دوران مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں اور سکھوں کی اجتماعی تدفین کے واقعات کو دستاویزی شکل دینے کی کوششوں کو دکھایا گیا ہے۔
حکومت سے یہی توقع تھی، دلجیت
دلجیت دوسانجھ نے امریکا سے انسٹاگرام لائیو سیشن اور سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فلم کی ٹیم کو حکومتی کارروائی کا پہلے ہی اندازہ تھا، اسی لیے فلم کی تشہیر محدود رکھی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ ناظرین اسے دیکھ سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ فلم کی نقول اب آن لائن بھی گردش کر رہی ہیں۔
زی فائیو نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ قزاقی (پائریسی) کی حوصلہ شکنی کریں، جبکہ پلیٹ فارم اس معاملے پر مختلف قانونی اور انتظامی آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ فلم بدستور بھارت سے باہر زی فائیو گلوبل پر دستیاب ہے۔
زی گلوبل کی ڈاؤن لوڈز میں 374 فیصد اضافہ
فلم کو زی فائیو سے ہٹائے جانے کے باوجود ’ستلج‘ نے عالمی سطح پر غیرمعمولی مقبولیت حاصل کر لی۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کی ریلیز کے بعد زی فائیو ایپ کی بیرونِ ملک ڈاؤن لوڈز میں تقریباً 374 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں زی فائیو گلوبل کے ذریعے فلم کی دستیابی نے ناظرین کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کیا، جبکہ فلم کی غیرقانونی نقول بھی انٹرنیٹ پر گردش کرنے لگیں۔
‘فلم قومی سلامتی کیلئے خطرہ’
بھارتی حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز 2021 کے تحت جاری کیے گئے حکم میں مؤقف اختیار کیا کہ فلم کے بعض مناظر قومی سلامتی اور ریاستی تشخص پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
فلم کو اس سے قبل ’گھلوگھارا‘ اور ’پنجاب 95‘ کے ناموں سے بھی پیش کیا گیا تھا اور اسے سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (CBFC) سے منظوری حاصل کرنے کے لیے تقریباً تین سال کے طویل عمل سے گزرنا پڑا۔ فلم سازوں کے مطابق سی بی ایف سی نے 127 ترامیم تجویز کی تھیں، جن میں جسونت سنگھ کھالڑا کا نام حذف کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا، تاہم بعد ازاں فلم کو بغیر کٹ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر جاری کیا گیا۔





تبصرے بند ہیں