کالا باغ ڈیم کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے ایک بار پھر ڈیم کی تعمیر کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کالا باغ ڈیم ریاست کی ضرورت ہے، سیاست سے بالاتر ہو کر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، چھوٹے ڈیم اس کا متبادل نہیں بن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اس قومی بحث میں کردار ادا کرے اور نئے صوبوں کی بھی حمایت کی، تاہم مشورہ دیا کہ نئے صوبے اسی صورت بنیں جب وہ خودمختار طور پر چل سکیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے وزیراعلیٰ گنڈا پور کے مؤقف کو ان کی ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی بطور جماعت کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے فیصلے کی حمایت نہیں کرتی۔ انہوں نے اسے "مردہ گھوڑا” قرار دیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بھی کہا کہ ملک میں نہریں تک اتفاق رائے کے بغیر نہیں بنتیں، اس لیے چھوٹے یا بڑے کوئی بھی ڈیم قومی اتفاق کے بغیر نہیں بنائے جا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیمز ضروری ہیں، مگر صرف اتفاق رائے سے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ گنڈا پور نے اے این پی کے رہنما ایمل ولی کے بیان پر تنقید کی، جس میں انہوں نے کالا باغ ڈیم کی سخت مخالفت کی تھی۔ گنڈا پور نے کہا کہ یہ قومی مسئلہ ہے، لاشوں اور نسلوں کی بات کر کے قوم کو تقسیم نہ کریں، ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈھائی ماہ قبل مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں ڈیموں پر بات چیت ہوئی تھی، اور کالا باغ ڈیم منڈا کے مقام پر تجویز کیا گیا ہے جہاں آبادی بہت کم ہے۔






تبصرے بند ہیں