بھارت کی جانب سے دوبارہ پانی چھوڑنے کے بعد دریائے ستلج میں بڑے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے
ملتان کو بچانے کے لیے شیر شاہ بند میں شگاف ڈالنے کی تیاری مکمل ہے جبکہ دریائے سندھ میں بھی شدید طغیانی کا خدشہ ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے اور کشمور کے کچے کے علاقے خطرے میں آگئے ہیں۔
فیصل آباد میں بارش نے 30 سالہ ریکارڈ توڑ دیا، کراچی میں بھی دن بھر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا جس کے دوران شارع فیصل، لانڈھی، ملیر، ایئرپورٹ، یونیورسٹی روڈ اور گلستان جوہر سمیت مختلف علاقوں میں کبھی ہلکی اور کبھی تیز بارش ہوئی۔ مختلف حادثات میں 3 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ماہرین نے آئندہ ایک سے دو روز میں شہر قائد میں نئے بارش کے اسپیل کی پیش گوئی کی ہے۔
پی ڈی ایم اے سندھ کے مطابق ممکنہ سیلاب سے صوبے کے 200 دیہات اور تقریباً 2 لاکھ 24 ہزار افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب دریائے چناب کا دوسرا سیلابی ریلا ہیڈ محمد والا کی طرف بڑھ رہا ہے جس پر اکبر بند اور گرے والا بند کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ملتان کے نواحی علاقوں اور بستیاں 5 سے 10 فٹ تک پانی میں ڈوب چکی ہیں جبکہ پنجاب کے دیگر حصوں میں بھی مکانات، فصلیں اور دیہات زیر آب آگئے ہیں۔





تبصرے بند ہیں