شہزاد رائے نے اپنے نئے گانے میں تعلیمی نظام پر سوالات اٹھا دیئے

پاکستانی گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے نے عالمی یومِ تعلیم کے موقع پر اپنا نیا گانا جاری کرتے ہوئے ملک کے تعلیمی نظام اور بچوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو موضوع بنایا ہے۔

انہوں نے اس بات پر غور کرنے کی دعوت دی ہے کہ آیا ہمارا تعلیمی ماحول واقعی بچوں کی ذہنی نشوونما میں مدد دے رہا ہے یا خاموشی سے انہیں حد سے زیادہ توقعات کے بوجھ تلے دبا رہا ہے۔

شہزاد رائے نے اپنے ادارے زندگی ٹرسٹ کے زیرِ انتظام اسکولوں کے طلبا کے ساتھ مل کر یہ گانا ریلیز کیا جس کا عنوان ’لیٹ ہو گئے‘ رکھا گیا ہے۔ میوزک ویڈیو کی ابتدا ایک قدرے چونکا دینے والے مگر مانوس منظر سے ہوتی ہے جہاں وہ والدین سے پوچھتے نظر آتے ہیں کہ وہ ابھی پیدا بھی نہ ہونے والے بچے کا اسکول میں داخلہ کیوں کروانا چاہتے ہیں۔ جب والدین الجھن کا شکار ہوتے ہیں تو شہزاد رائے اسکرین پر نمودار ہو کر بے تکلف انداز میں کہتے ہیں، ’’لیٹ ہو گئے‘‘۔ اور یوں ویڈیو کا مرکزی پیغام فوراً واضح ہو جاتا ہے۔

طنز اور کہانی کے امتزاج کے ذریعے یہ گانا اس دباؤ کو نمایاں کرتا ہے جس کا سامنا بچوں کو اسکول جانے سے بھی پہلے کرنا پڑتا ہے۔ ویڈیو میں ایک اہم نکتہ مہنگے نجی اسکولوں کے داخلہ امتحانات اور ڈیڈ لائنز پر اٹھایا گیا ہے، جہاں والدین کو کم عمر بچوں کو انٹرویوز کے لیے پیش کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

ایک ننھی بچی کی التجا اس کیفیت کی عکاسی کرتی ہے جو بس اتنا چاہتی ہے کہ توقعات کے بوجھ سے پہلے اسے کچھ وقت بچہ رہنے دیا جائے۔

READ  انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کی بیٹی نے اپنے نام سے ولدیت ختم کردی

کہانی آگے بڑھتے ہوئے زبان کے مسئلے کی طرف جاتی ہے، جہاں بچے گھروں میں مختلف زبانیں بولتے ہیں مگر اسکول میں انگریزی ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ شہزاد رائے اس تضاد کو جذباتی دباؤ کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں، جہاں ڈانٹ ڈپٹ مختلف زبانوں میں سنائی دیتی ہے لیکن سمجھ کم ہی آتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں