سیلاب جنوبی پنجاب میں داخل، ہیڈ محمد والا ٹریفک کے لیے بند، بہاولنگر میں چاویکا بند ٹوٹ گیا

Floods enter southern Punjab, Head Muhammad Wala closed for traffic, Chawika dam breaks in Bahawalnagar

جنوبی پنجاب میں سیلاب نے تباہی مچانا شروع کر دی ہے۔ ملتان میں دریائے چناب کا بڑا سیلابی ریلا ہیڈ محمد والا سے گزر رہا ہے، جس کے باعث ٹریفک کے لیے ہیڈ محمد والا بند کر دیا گیا ہے۔ بہاولنگر میں دریائے ستلج کے شدید ریلے نے چاویکا بہادر کا بند توڑ دیا۔ آج ملتان میں 8 لاکھ کیوسک کا ریلا آنے کا امکان ہے، اور بند میں شگاف ڈالنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔

سیلابی صورتحال کے باعث چیچہ وطنی، ننکانہ صاحب سمیت کئی دیہات اور مرکزی شاہراہیں زیر آب آ چکی ہیں۔ کمالیہ میں ہیڈ سدھنائی کو بچانے کے لیے دریائے راوی پر مائی صفوراں بند کو بارودی مواد سے توڑ دیا گیا ہے۔

ادھر سندھ میں گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جبکہ 13 لاکھ کیوسک کے سیلابی ریلے کے گزرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ٹھٹھہ، گھوٹکی، سہیون، اور نوشہروفیروز کے کئی دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں اور کچے کے علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی شروع ہو گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 881 تک جا پہنچی ہے، جن میں پنجاب میں 223، خیبرپختونخوا میں 48، سندھ میں 58، بلوچستان میں 26 اور آزاد کشمیر میں 37 افراد شامل ہیں۔

سندھ کے مختلف اضلاع میں کچے کے علاقوں سے لوگ محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔ حکومت سندھ کے مطابق آج 8 لاکھ کیوسک کا ریلا متوقع ہے۔ ضلع کونسل سکھر نے کچے میں پھنسے کئی خاندانوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔

READ  پاکستانی و ایرانی وزرائے خارجہ کا رابطہ، جاری کشیدگی اور امن کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال

کوٹری بیراج پر سیلابی ریلا 78 دیہات کو زیر آب کر چکا ہے، اور کئی مکانات بھی پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت خیمے لگا رہے ہیں۔ گھوٹکی، سیہون، اور نوشہروفیروز میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ ایس ایم بچاؤ بند پر پانی کے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث کئی دیہات خالی کرا لیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بھارت سے چھوڑا گیا پانی 12 سے 13 لاکھ کیوسک کی صورت میں گڈو بیراج تک پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سکھر اور کوٹری بیراج سے 5.5 لاکھ کیوسک پانی بغیر نقصان گزر چکا ہے۔

میئر سکھر ارسلان اسلام شیخ نے کشتی کے ذریعے دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا اور بتایا کہ 4 ستمبر کو بڑا ریلا سندھ میں داخل ہوگا، تاہم تیاری مکمل ہے اور بیراجوں کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں۔

محکمہ آبپاشی سندھ کے مطابق گڈو بیراج پر اپ اسٹریم میں پانی کی آمد 360,777 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم میں اخراج 345,373 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سکھر بیراج پر اپ اسٹریم 280,850 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم 231,500 کیوسک جبکہ کوٹری بیراج پر اپ اسٹریم 273,844 کیوسک اور اخراج 244,739 کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں