دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب , 9 اضلاع میں ہائی الرٹ

Extremely high flood level at Head Sadhanai, Ravi River

پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن نے وزارتِ آبی وسائل کو دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب سے آگاہ کیا، جس کے بعد پنجاب کے 9 اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا۔

دریائے ستلج میں ہری کے اور فیروزپور پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جس سے قصور، اوکاڑہ، بہاولنگر، پاکپتن، وہاڑی، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ متاثر ہیں۔ ہیڈ تریموں پر بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سیلابی ریلوں کے باعث ہزاروں بستیاں ڈوب گئیں، فصلیں اور رابطہ سڑکیں زیرِ آب آگئیں جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

سیلابی ریلہ تاندلیانوالہ کو متاثر کرنے کے بعد کمالیہ میں داخل ہوگیا، جہاں درجنوں دیہات، فصلیں اور سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں۔ مین جی ٹی روڈ لاہور-فیصل آباد کے ٹوٹ جانے سے پانی آبادیوں میں داخل ہوگیا اور لاہور، فیصل آباد اور ملتان جانے والی ٹریفک مکمل معطل ہوگئی۔

پنجاب کے تینوں دریاؤں میں شدید سیلابی صورتحال برقرار ہے جس سے اب تک 20 لاکھ سے زائد افراد متاثر اور 33 افراد مختلف حادثات میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ہیڈ تریموں پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 79 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ دریائے چناب کا ایک بڑا ریلا مظفرگڑھ میں داخل ہوچکا ہے۔ جھنگ کے کئی علاقے ڈوب گئے اور ڈھائی سو سے زائد دیہات زیرِ آب آگئے۔

چنیوٹ میں 141 دیہات اور 2 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ ملتان میں دریائے چناب کے کنارے بستیاں ڈوب گئیں۔

ادھر سندھ میں سکھر، کوٹری اور گڈو بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ کچے کے علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا کہا گیا مگر بیشتر افراد گھروں کو چھوڑنے سے انکار کر رہے ہیں۔

READ  پی آئی اے کا اسلام آباد سے لندن کیلئے پروازیں شروع کرنے کا اعلان

قومی انسدادِ پولیو پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ اضلاع میں پولیو سمیت دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

دریائے چناب میں تریموں کے مقام پر اس وقت 4 لاکھ 79 ہزار 743 کیوسک کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سیلابی ریلا سیالکوٹ، وزیرآباد اور چنیوٹ سے گزرتے ہوئے جھنگ میں داخل ہوا، جہاں تقریباً 200 دیہات اور سینکڑوں گھر ڈوب گئے ہیں۔

متاثرہ علاقوں سے 2 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ آج رات ملتان سے دریائے چناب کا بڑا ریلا گزرنے کا امکان ہے، جس کے پیشِ نظر ہیڈ محمد والا روڈ پر ڈائنامائٹ نصب کر دی گئی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر حفاظتی شگاف ڈالا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں