پاکستان و بھارت کی ایک قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے کروڑوں باشندے مسالے دار کھانے پسند کرتے ہیں۔ گو ماضی میں حکیم انھیں دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتے کہ ان کا کہنا تھا، یہ کھانے انسان کا نظام ہاضمہ تباہ کر دیتے ہیں۔
جدید سائنس نے بھی دریافت کیا ہے کہ اگر مسالے دار غذائیں زیادہ مقدار میں کھائی جائیں تو سینے کی جلن، تیزابیت، اسہال یا پیٹ میں درد کا سبب بن سکتی ہیں، خاص طور پر ان لوگوں میں جن کے معدے میں حساسیت ہو۔ ان کا زیادہ استعمال مہاسے بڑھا سکتا یا جلد کی جلن کا سبب بن سکتا ہے۔
تاہم جدید تحقیق نے انکشاف کیا ہے،اگر یہ کھانے اعتدال سے کھائے جائیں تو نہ صرف یہ کہ نقصان دہ نہیں رہتے بلکہ انسان کو اچھی صحت پانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکہ کے ممتاز ہارورڈ میڈیکل اسکول میں میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرکا کہنا ہے’’جدید تحقیق کا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ مسالے دار کھانے انسان کی بھوک مٹا دیتے ہیں ۔اسے پھر جلد بھوک نہیں لگتی۔ اس اعتبار سے وہ انسانی نظام استحالہ ( میٹابولزم) کو بہترین رکھنے میں مدد دیتے ہیں‘‘۔
متعدد تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے مسالے دار کھانا کھاتے ہیں، ان کی مجموعی صحت بہتر رہتی ہے اور انھیں بیماریاں کم لگتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طبی سائنس دان یہ سمجھنے کے لیے تحقیق و تجربے کر رہے ہیں کہ پاکستان وبھارت میں خاص طور پر مقبول خوراک کس طرح انسانی جسم کی مدد کرتی ہے۔
مثال کے طور پر2020ء میںایک وسیع تحقیقی جائزے سے انکشاف ہوا تھا کہ مرچوں سے بھرپور غذا موٹاپا، دل کی بیماری اور ذیابیطس کا خطرہ کم کردیتی ہے۔ ایک انوکھی بات یہ پتا چلی کہ جو لوگ مسالے دار کھانے اکثر کھاتے ہیں، ان میں مرنے کا امکان ان لوگوں کی نسبت 25 فیصد کم ہو جاتا ہے جو شاذ و نادر ہی اس قسم کے کھانے کھاتے ہیں۔





تبصرے بند ہیں