بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور مسلسل بارشوں کے نتیجے میں پنجاب کو 39 سال کے بدترین سیلاب کا سامنا ہے۔ سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، اب تک 1400 سے زائد بستیاں زیر آب آ چکی ہیں، 10 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ 12 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔
لاکھوں افراد محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ دریائے راوی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے، شاہدرہ اور راوی سائفن پر بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق آج دوپہر تک راوی سے 2 لاکھ کیوسک سے زائد پانی گزرنے کا امکان ہے۔ امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، مزید ریسکیو اہلکار اور کشتیاں طلب کر لی گئی ہیں۔
کمشنر لاہور کے مطابق راوی سائفن پر پانی کا بہاؤ کچھ حد تک مستحکم ہو چکا ہے، شاہدرہ کے قریبی علاقوں سے انخلاء جاری ہے۔ دریں اثنا، ستلج میں پانی کے دباؤ سے بہاولپور کی کئی بستیاں متاثر ہوئیں اور عارضی بند ٹوٹ گئے۔ کپاس، دھان سمیت متعدد فصلیں پانی کی نذر ہو گئیں۔
دریائے چناب میں بھی شدید سیلابی صورتحال ہے، کوٹ مومن میں 6 لاکھ کیوسک کا ریلا داخل ہو چکا ہے، جبکہ 10 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کی پیش گوئی ہے۔ پانی کھیتوں اور آبادیوں میں داخل ہو چکا ہے۔ حکومت، فوج اور رینجرز امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ ملتان کو بچانے کے لیے دو بند توڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد، کراچی، لاہور اور سیالکوٹ سمیت ملک بھر میں مزید بارشوں کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، اور بلوچستان حکومت بھی الرٹ پر ہے۔






تبصرے بند ہیں