ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ ’’اگرہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی تیل نہیں بیچ سکے گا۔‘‘
چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے بدھ کے روز متنبہ کیا کہ آبنائے ہرمزکی صورت حال اب جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، اس جنگ کا اصول واضح ہے، یا سب یا کوئی نہیں، جہاں ہم تیل فروخت نہیں کریں گے وہاں کوئی اور بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔
ایرانی اسپیکر نے کہا اگر ہماری سلامتی یقینی نہیں تو کسی کی بھی سلامتی محفوظ نہیں رہے گی، آبنائے ہرمز کا تحفظ امریکی افواج کی عدم موجودگی سے وابستہ ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں سلامتی کا انحصار امریکی افواج کی عدم موجودگی پر ہے، اور ایران کئی بار واضح کر چکا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں حالات دوبارہ جنگ سے پہلے جیسے نہیں ہوں گے۔
واضح رہے کہ اس سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر تہران آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر حملہ کرے گا تو امریکا ہر ایسے حملے کے جواب میں ایران کے کسی پل یا بجلی گھر کو بمباری کا نشانہ بنائے گا۔
ایران بارہا یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ اگر تجارتی جہاز اس کے نئے بحری انتظامات کے تحت تہران کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی رکھیں تو آبنائے ہرمز سے ان کی آمد و رفت محفوظ رہے گی۔ تاہم ایران نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی طویل مدتی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔





تبصرے بند ہیں