ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی غزہ میں پروجیکٹ کوآرڈینیٹر کیرولائن ولمین نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں افراتفری اور قتل عام کو ایک منظم اور ریاستی پالیسی کے تحت انجام دے رہا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ محصور علاقے میں خوراک کی شدید قلت بدستور قائم ہے، اور شہری روزانہ کھانے کی تلاش میں اپنی جانیں داؤ پر لگا رہے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو بچوں سمیت مزید تین افراد بھوک اور غذائی قلت کے باعث جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد بھوک سے مرنے والوں کی تعداد 162 ہوگئی ہے۔
علاوہ ازیں، اسرائیلی حملوں میں گزشتہ روز 80 سے زائد فلسطینی اس وقت شہید ہوئے جب وہ امداد لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک بھوک اور غذائی قلت کے باعث شہید ہونے والوں میں 89 بچے بھی شامل ہیں۔





تبصرے بند ہیں