کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مودی سرکار کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والی جین زی کی نمائندہ جماعت کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں فون پر دھمکیاں دی جا رہی تھیں کہ تم بی جے پی میں شامل ہو جاؤ ورنہ تمہیں گولی مار دی جائے گی۔
اورنگ آباد میں میڈیا سے گفتگو میں ابھیجیت دپکے نے کہا کہ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران مجھے دھمکیاں بھی دی گئیں۔ مجھ سے کہا گیا کہ اپنا احتجاج ختم کردو اور بی جے پی کے ساتھ آجاؤ، ورنہ تمہیں گولی سے اڑا دیا جائے گا۔
بانی کاکروچ پارٹی نے طنزیہ کہا کہ یہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی محبت کی زبان ہے۔ ’’تو آ نہیں تو تیرا کچھ کر دیں گے۔ تیرے ماں باپ کے ساتھ کچھ کر دیں گے‘‘ اور ایسی کئی دھمکیاں دی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے بی جے پی کی جانب سے کئی بار پیش کش کی گئی۔ کتنی پیش کش ہو میں بی جے پی میں نہیں جائوں گا۔ اگر مجھے بی جے پی ہی میں جانا ہوتا تو بہت پہلے چلا گیا ہوتا۔
مستقبل میں ملکی سیاست میں شامل ہونے کے سوال پر ابھیجیت دپکے نے کہا کہ ہم نے ایک آدمی وزیراعظم کو اتنا بڑا بنا دیا کہ آئین ہند سے بالاتر سمجھ لیا، اسی لیے ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ اصل چیز اس ملک کے عوام کا متحد ہونا بے حد ضروری ہے۔
انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی پر بیرون ملک فنڈنگ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کاکروچ جنتا پارٹی بیرونی طاقتوں کے اشارے پر کام کر رہی ہے تو یہ وزیر داخلہ امیت شاہ کی ناکامی ہے، انہیں فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
انہوں نے جنتر منتر پر ہونے والے پتھراؤ اور پولیس کی طرف سے طلبہ پر ہوئے لاٹھی چارج کا ذمہ دار امیت شاہ کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔





تبصرے بند ہیں