فل کورٹ اجلاس سے قبل جسٹس سردار اعجاز اسحاق کا چیف جسٹس کو لکھا گیا خط منظر عام پر آ گیا

Justice Sardar Ijaz Ishaq's letter to the Chief Justice has been made public before the full court session

فل کورٹ میٹنگ سے قبل جسٹس سردار اعجاز اسحاق کی جانب سے چیف جسٹس کو لکھا گیا خط منظرِ عام پر آیا ہے، جس میں انہوں نے متعدد تشویشات اجاگر کی ہیں:

انہوں نے درخواست کی ہے کہ فل کورٹ میٹنگ کے ایجنڈا میں اضافہ کیا جائے، کیونکہ “پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز” کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے، اور ججز سے اس پر رائے لینے کے لیے ڈیڑھ دن قبل مراسلہ بھیجا گیا۔

لاہور ہائی کورٹ میں رولز اپنانے کے حوالے سے ججز کو پریزنٹیشن دینے کی بھی تجویز دی گئی، تاہم انھوں نے محسوس کیا کہ فل کورٹ میٹنگ محض ایک رسمی کارروائی بن چکی ہے۔

خط میں مزید کہا گیا: “اس صورتحال میں میں پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز سے متعلق معنی خیز رائے نہیں دے سکتا۔” ان کے مطابق، فل کورٹ کی منظوری کے بغیر گزٹ نوٹیفکیشن غیر قانونی ہوسکتا ہے۔

درخواست کی گئی کہ ججز کے بیرونِ ملک سفر سے قبل NOC کی شرط کو ایجنڈے میں شامل کیا جائے اور ماسٹر آف روسٹر (چیف جسٹس) کے پاس بینچز کی تشکیل و کیسز کے تبادلے کا اختیار ہونا چاہیے۔

آخر میں اُنہوں نے کہا کہ یہ ججز کا بنیادی حق ہے کہ وہ چھٹیاں پاکستان یا بیرونِ ملک گزاریں، اور بینچز کی تشکیل سے متعلق اختلافات پر بھی فل کورٹ میں واضح بحث ہونی چاہیے۔

اس خط نے فل کورٹ میٹنگ سے قبل چیف جسٹس کے سامنے ضروری عملی اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت کو واضح طور پر اجاگر کر دیا ہے۔

READ  پاکستان کرکٹ ٹیم انگلینڈ کیخلاف تیسرا ٹیسٹ میچ کھیلنے برمنگھم پہنچ گئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں