سائنسدانوں کی ایک حالیہ جینیاتی تحقیق سے یہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ آلو اور ٹماٹر دراصل ایک ہی آبائی پودے کی مختلف شکلیں ہیں۔
تحقیقی ٹیم نے آلو اور ٹماٹر کے ڈی این اے کا تقابلی جائزہ لیا، جس سے پتا چلا کہ تقریباً 90 لاکھ سال قبل دونوں سبزیاں ایک ہی پودے سے ارتقائی طور پر وجود میں آئیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ارتقائی تبدیلیوں کے باعث ایک پودا زمین کے اندر خوراک ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا آلو بن گیا، جبکہ دوسرا پودا پھل دینے والا اوپری حصہ بن کر ٹماٹر کی صورت اختیار کر گیا۔
ماہرین کے مطابق اس دریافت سے زرعی شعبے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، کیونکہ اس معلومات کی بنیاد پر ایسی نئی اقسام تیار کی جا سکتی ہیں جو بیماریوں کے خلاف زیادہ مزاحم ہوں۔ یہ مطالعہ پودوں کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں بھی ایک اہم پیشرفت ہے۔





تبصرے بند ہیں