سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے پبلک پارکس کے کمرشل استعمال کے خلاف کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بلدیہ عظمیٰ کراچی کا اقدام غیر قانونی قرار دے دیا
عدالت نے اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل سیف الدین ایڈووکیٹ اور 9 ٹاؤن چیئرمینوں کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کے ایم سی کو پبلک پارکس نجی اداروں کو کرائے پر دینے کا اختیار نہیں، رفاہی پلاٹ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نام پر تجارتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 140A کے تحت بلدیاتی اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونا تھے لیکن صوبائی اسمبلی نے ایسا نہیں کیا، اس لیے فی الحال کے ایم سی کے پاس ایسے اختیارات نہیں۔ پارکس عوام کی ملکیت ہیں اور ان کا کمرشل استعمال بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ تمام پارکس صرف پارک کے طور پر ہی استعمال ہوں، اور اس حوالے سے سٹی کونسل کی قرارداد کو کالعدم قرار دے دیا۔
واضح رہے کہ درخواست میں عمر شریف پارک، باغ ابن قاسم، ہل پارک اور کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس سمیت 9 بڑے پارکس کے کمرشل استعمال پر اعتراض کیا گیا تھا۔





تبصرے بند ہیں