پنجاب پولیس اور ٹریفک وارڈنز کے بعد اب موٹروے پولیس بھی بدمعاشی کا شکار ہو گئی ہے، جہاں اہلکار جب چاہے تشدد کرتا ہے۔ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں موٹروے پولیس کا اہلکار ایک بچے کے سر پر جوتے مار رہا ہے۔ جب ایک صحافی اس منظر کو کیمرے میں قید کرتا ہے تو اہلکار اس پر بھی حملہ کر دیتا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکار بچے پر تشدد کے الزام سے انکار کرتا ہے، حالانکہ اس کا واضح ثبوت موجود ہے۔ صحافی بار بار سوال کرتا ہے کہ آپ نے بچے کو کیوں مارا، لیکن اہلکار اسے کمرے سے باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کرتا ہے۔
یہ واقعہ پنجاب میں پولیس کے ظلم و بربریت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جہاں اہلکار بلا روک ٹوک تشدد کرتے ہیں اور کسی سے جوابدہ نہیں ہوتے۔ موٹروے پولیس نے ابھی تک اس واقعے پر کوئی کارروائی نہیں کی۔






تبصرے بند ہیں