قادرپورراں کے تھانہ بدھلہ سنت کی حدود میں مبینہ زیادتی کے مقدمے کے اندراج میں تاخیر اور پولیس کی غفلت سے دلبرداشتہ ہو کر ایک خاتون نے خودکشی کر لی۔
تفصیلات کے مطابق قادرپورراں کے تھانہ بدھلہ سنت کی حدود میں مبینہ زیادتی کے مقدمے کے اندراج میں تاخیر کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے غفلت کے مرتکب ایس ایچ او، تفتیشی افسر (آئی او) اور محرر کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ڈی ایس پی کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق رواں ماہ 10 جولائی کو ملزم اشفاق نے اپنے ساتھیوں سمیت خاتون کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ متاثرہ خاتون کی جانب سے درخواست موصول ہونے کے باوجود ایس ایچ او نے مقدمہ درج کرنے کے بجائے جھوٹی رپورٹ درج کی۔
پولیس کے اس رویے اور انصاف نہ ملنے سے مایوس ہو کر خاتون نے زہریلی گولیاں کھا لیں، جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئیں۔
واقعے پر ایکشن لیتے ہوئے آر پی او ملتان کے حکم پر تھانہ بدھلہ سنت کے ایس ایچ او عظیم ذوالفقار، سب انسپکٹر (آئی او) وسیم عباس اور محرر نعیم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس افسران کے خلاف یہ مقدمہ ڈی ایس پی مخدوم رشید محمد جہانگیر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولیس افسران نے خاتون کا مقدمہ بروقت درج نہ کر کے انتہائی غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔
مزید برآں آئی جی پنجاب کے حکم پر فرائض میں غفلت برتنے پر ڈی ایس پی نیو ملتان ارشاد بلوچ کو بھی عہدے سے معطل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے اور فرائض میں کوتاہی برتنے والے کسی بھی اہلکار کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔






تبصرے بند ہیں