ایران نے امریکا سے جنگ کے خاتمے کیلئے نئی شرائط پیش کر دیں

ایران کے سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے امریکا کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے تہران کی نئی شرائط سامنے رکھ دیں۔

عرب میڈیا کو خصوصی انٹرویو میں محسن رضائی نے بتایا ہے کہ ایران نے قطری ثالثوں کے ذریعے اپنی شرائط امریکا تک پہنچا دی ہیں، تہران جنگ کے ابتدائی 40 دنوں کے مقابلے میں اب زیادہ جنگی تجربہ رکھتا ہے اور امریکا کا زیادہ طاقت ور اور تکلیف دہ حملوں سے مقابلہ کیا جائے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک امریکا اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کرتا، آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔

ایران کی نئی شرائط میں جنگ کا خاتمہ، دونوں ممالک کی خود مختاری کا احترام، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنا شامل ہیں۔
جون میں طے پانے والے مفاہمتی معاہدے میں جنگ کا تمام محاذوں پر خاتمہ، ایران کے لیے 300 ارب ڈالرز کے امریکی تعاون سے تعمیرِ نو کے منصوبے، ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے پابندیوں میں نرمی اور خطے میں مزید امریکی فوجی تعینات نہ کرنے کی شرائط شامل تھیں۔

ایرانی سیکیورٹی چیف نے اس بار امریکا سے جنگی ہرجانے کا مطالبہ نہیں کیا، تاہم جوہری پروگرام کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران نے اب تک جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق پابندی برقرار رکھی ہے، لیکن مستقبل میں صورتِ حال تبدیل ہو سکتی ہے۔

محسن رضائی نے یمن کی جنگ میں ایرانی مداخلت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران یمن اور سعودی عرب کے درمیان امن کے لیے ثالثی میں مدد کر سکتا ہے۔

READ  ملازمت کے دوران حد سے زیادہ کام کرنے والا چینی شخص انتقال کرگیا

انہوں نے آبنائے باب المندب کو بند کرنے کے امکان کو بھی مسترد کر دیا۔

دوسری جانب امریکا نے تاحال ایران کی نئی شرائط پر باضابطہ ردِعمل نہیں دیا ہے۔

امریکی حکام نے خطے کے متعدد ممالک میں موجود اپنے شہریوں کو سیکیورٹی صورتِحال کے پیشِ نظر محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں